ممبئی:2/نومبر۔( ورق تازہ نیوز) مہاراشٹر کی سیاست میں گزشتہ چار پانچ دنوں سے پرہار جن شکتی پارٹی کے سربراہ بچو کڈو اور امراوتی کے ایم ایل اے روی رانا کے درمیان سیاسی کشمکش شروع ہوگئی ہے۔
اس لڑائی میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر شدید الزامات لگائے۔ اس سب کے درمیان بچو کڈو نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو اپنے چھ سات حمایتی ایم ایل ایز کے ساتھ حکومت سے باہر نکلنے کا انتباہ دیا تھا۔ تاہم دونوں سرکردہ رہنمابچو کڈو اور روی رانا کی ثالثی کے بعد تنازع ختم ہوگیا۔
روی رانا نے پیر کو معافی مانگ کر معاملہ ختم کر دیا تھا۔ جبکہ بچو کڈو نے منگل کی شام امراوتی میںں طاقت کا مظاہرہ کیا۔ تاہم اس شو آف پاور کی گرمی ممبئی تک دیکھی گئی۔ اس کے نتیجے میں ممبئی میں بھی سیاسی ہلچل بڑھ گئی تھی۔ بچو کدو نے خبردار کیا کہ ہم ڈوب جائیں گے لیکن آپ کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔
تمام تر ناراضگیوں کے باوجود بچو کڈو نے روی رانا سے لفظی جنگ ختم کر دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی غلطی تھی اس لیے معذرت خواہ ہوں۔ اگلی بار ایسا ہوا تو پتہ چلے گا کہ پرہار کا وار کیسا ہوتا ہے۔
بچو کڈو نے کہا کہ کون بولتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ میرے وجود کا سوال ہے۔ کوئی آ کر کچھ کہے ہم اتنے سستے نہیں ہو گئے۔ اگر ذرائع کی مانیں تو روی رانا نے بچو کڈو کے شو آف پاور کے بعد دیویندر فڑنویس سے ملاقات کی ہے۔ بچو کڈو نے کہا کہ ہم مہاتما گاندھی کو مانتے ہیں، لیکن بھگت سنگھ ہمارے دل و دماغ میں ایسے ہیں کہ پتہ نہیں کب ہماری سٹک جائے۔اسلئے اگلی بار یہ بھی ذہن میں رکھیں۔
بچو کڈو نے کہا کہ ہم گالی گلوچ نہیں کریں گے، ضابطہ اخلاق پر عمل کریں گے۔ ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے کسی کے دل کو ٹھیس پہنچے۔ میں یہ سب صرف حکومت میں وزیر کے عہدے کے لیے کررہا یوں، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بچو کڈو نے کہا کہ آج ہر پارٹی میں باغی ہیں، کوئی پارٹی ایسی نہیں جہاں باغی نہ ہوں، اس کے باوجود تمام باغی اگلی صف میں موجود ہیں۔