صحافت و عدالت کی دنیا میں حق گوئی و بے باکی اور انصاف پسندی سب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں اور آج کےدور میں انہی دو اداروں کے ذریعے حزب مخالف شخصیت، قوم یا ادارے کے خلاف جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ اور ظلم پر مبنی فیصلہ صادر کرایا جا سکتا ہے جس کی مثالیں ہم آئے دن ہمارے ملک ہندوستان میں دیکھتے رہتے ہیں لیکن کیوں کہ حق گوئی و انصاف پسندی یہ کسی کی میراث نہیں ہوتے اسی لیے ہر سماج میں ان صفات کے حامل افراد پائے جاتے ہیں جو خارجی دباؤ کے بغیر حق گوئی اور انصاف کے گن گاتے ہیں.
ہمارے پاس دو خبریں ہیں جس پر اب تک کسی مسلم قیادت یا مسلم میڈیا ہاؤسز کی طرف سے اظہار خیال نہیں آیا جب کہ درج ذیل خبر اور اس سے متعلق رویے کی زد میں مسلمان ہی زیادہ ہیں۔
پہلی خبر یہ ہیکہ 14/جولائی کو ایک مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت عظمی(سپریم کورٹ) کے جج صاحبان نے جو تین رکنی پر مشتمل ہے کہا کہ آزادی کے 74/سال بعد بھی ملک سے غداری پر مبنی قانون دفع 124/A کو آخر کیوں کالعدم قرار نہیں دیا جاتا، یہاں اس بات کا تذکرہ بےجا نا ہو گا کہ اس قانون کے تحت نا قابل ضمانت وارنٹ اور عدالت کے ذریعے عمر قید کی سزا بھی ممکن ہے بحر حال حالیہ مقدمے میں جج صاحبان نے اپنے بیان میں اس کے بے جا استعمال پر تشویش کے اظہار کے ساتھ اس قانون کو سامراجی دور کا قانون بھی قرار دیا۔
دیگر جرائم میں ملک سے غداری اور ملک بغاوت پر مبنی سرگرمی ایک نادر جرم ہے اسی لیے کوئی بھی حکومت اپنے مفاد میں اس قانون کا بے جا استعمال کر سکتی ہے جس کی ایک ہی مثال کافی ہے سی اے اے اور این آرسی مخالف مظاہروں کے دوران جنوری 2019 میں300/ مظاہرین کے خلاف ملک بغاوت کا الزام عائد کیا گیا تھا اب آپ سمجھ گئے ہونگے کے وہ مظاہرین کون تھے؟؟
دوسری خبر یہ ہیکہ13/جولائی کو ممبئی ہائی کورٹ نے داعش سے جڑے ہونے کے الزام میں پربھنی کے نو جوان اقبال احمد کبیر احمد کی درخواست ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ نکڑ یا چوراہے پر بیٹھ کر مسلمانوں پر ہوہرے ظلم پر بات کرنا کوئی جرم نہیں ہے اور پولس ابھی تک کوئی ثبوت یا شہادت چارج شیٹ میں داخل بھی نہیں کر پائی ہے یاد رہے کے اقبال احمد کے ساتھ دیگر کئی نوجوانوں کو مہاراشر اے ٹی ایس نے آج سے پانچ سال پہلے پربھنی سے داعش سے تعلق اور غیر قانونی سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ تو حضور بتانے کا مقصد یہ ہیکہ آج تک نا جانے کتنے مسلم نوجوانوں کو اسی جرم کی پاداش میں مستقبل کے تاریک گڑھوں میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے یا نکڑ اور چوراہوں پر بیٹھ کر مسلمانوں پر ہورہے ظلم کی بات ہوئی یا جو مسلم نوجوان اسلامی ذہنیت کے حامل نظر آئے وہ ڈیپارٹمنٹ کی نظر میں مشکوک ہوجاتے ہیں اور کئی ایک اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا پانے کے لیے ہماری بہادر و زیرک لیکن متعصب اور اسلام فوبیا کا شکار پولس کے ہتے چڑھاتے ہیں۔
دوسری جانب ایسی خبروں کا بر وقت نوٹس لیکر اس کی قانونی لڑائی لڑنے والوں کا ہمیں ساتھ دینا چاہیے اتنی اہم خبروں پر ہماری خاموشی صرف اور صرف لیگل اورنیس کی کمی کا نتیجہ ہی معلوم ہوتی ہے.