ایرانی فورسز کا پاکستان کے سرحدی گاؤں پر میزائلوں سے حملہ، دو بچے ہلاک

ایران کی سکیورٹی فورسز نے پاکستانی سرحد کے اندر ایک گاؤں میں رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان نے ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی اور پاکستانی حدود کے اندر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتائج کی ذمہ داری مکمل طور پر ایران پر عائد ہوگی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں دو بچے مارے گئے اور تین لڑکیاں زخمی ہوئی ہیں۔نگران حکومت نے سوشل میڈیا پر ’عدلیہ مخالف مہم‘ کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور انٹیلیجنس اداروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہےسابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آٹھ فروری کے عام انتخابات کے لیے ان کی جماعت کا ’پلان سی‘ بھی تیار ہے

پنجاب پولیس نے سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو گرفتار کر لیا ہے۔ انھیں نو مئی کو توڑ پھوڑ کے واقعات سے جڑے مقدمے میں ضمانت مسترد ہونے پر حراست میں لیا گیابلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’ہم نے سوچا ہی نہیں کہ جب ہم کابل جا کر چائے پی رہے تھے کہ ہمارے اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کو کیا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔‘

پاکستان نے ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی اور پاکستانی حدود کے اندر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں دو معصوم بچے مارے گئے اور تین لڑکیاں زخمی ہوئی ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق ’پاکستان کی خودمختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے کے متعدد ذرائع موجود ہونے کے باوجود یہ غیر قانونی عمل ہوا ہے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سخت احتجاج پہلے ہی تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے متعلقہ سینئر عہدیدار کے سامنے درج کرایا جا چکا ہے۔

حکام نے ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کیا ہے تاکہ مذمت کی جائے۔پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج کی ذمہ داری مکمل طور پر ایران پر عائد ہوگی۔

دفتر خارجہ کے مطابق ’پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ دہشت گردی خطے کے تمام ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے جس کے لیے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے یکطرفہ اقدامات اچھے ہمسایہ تعلقات کے مطابق نہیں ہیں اور دوطرفہ اعتماد اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading