دبئی: اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی)کا مسئلہ کشمیر پر دوہرا کردار سامنے آیا ہے۔ ایک طرف او آئی سی نے ہندوستان کے خلاف اس معاملے کو اپنی بحث میں شامل کرنے سے انکار کردیا ہے ، وہیں دوسری طرف تین اسلامی ممالک کے دبا ؤمیں آکر ایک تجویز پاس کر آرٹیکل 370 کی منسوخی کو حقوق کی خلاف ورزی قرار رہا ہے ۔ ان تینوں ممالک میں ملائیشیا ، ترکی اور پاکستان شامل ہیں جنہوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ ‘ اسلامو فوبیا’ کا مقابلہ کرنے کے لئے کے عالمی دن منانے کا اعلان کرے۔ ان تینوں ممالک کے دبا ؤپر کشمیر پر بات نہ کرنے کے اعلان کے باوجود او آئی سی نے یہ قرار داد منظور کی ، جس پر ہندوستان نے سخت اعتراض کیا ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کی تجویز میں جموں و کشمیر کے ذکر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان نے اسے غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ مذکورہ بالا تین اسلامی ممالک جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں ان ممالک میں اظہار رائے کی آزادی پر لگام ، مذہبی اقلیتوں پر مظالم اور خیالی اسلامی جہاد کو فروغ دیا گیا ہے ، جو پوری دنیا کے لئے خطرہ ثابت ہو رہا ہے ۔ ہندوستان نے کہا کہ او آئی سی کے اجلاس میں جموں و کشمیر کے معاملے پر غلط اور گمراہ کن اور غیر منصفانہ حقائق رکھے گئے تھے۔ ہندوستان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کا ملک کے اندرونی معاملات میں کوئی موقف نہیں ہے اور اس میں جموں و کشمیر کا مسئلہ بھی شامل ہے جو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔
ہندوستان نے پاکستان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ مایوسی کی بات ہے کہ جس طرح او آئی سی اب بھی ایسے ملک کے بہکاوے میں آکر ہندوستان مخالف تشہیر میں شامل ہو رہا ہے ، جس کا مذہبی رواداری ، بنیاد پرستی اور اقلیتوں پر ظلم و ستم کو لیکر ایک گندہ ریکارڈ ہے۔ہندوستان نے او آئی سی کو مشورہ دیا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے معاملات سے گریز کریں۔
غور طلب ہے کہ نائیجر کے دارالحکومت نیامی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس جمعہ کو شروع ہوا۔ او آئی سی سعودی عرب کی زیرقیادت 57 اسلامی ممالک پر مشتمل ہے۔ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 میں تبدیلی کے بعد سے ہی ، پاکستان مسلسل مسئلہ کشمیر پر اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور ہر بار اس کو منھ کی کھانی پڑی ہے ۔