غزہ کے حکام نے پیر کو اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے ہفتے کے آخر میں ایک سکول کی عمارت پر اسرائیلی حملے میں ہلاک شدہ فلسطینیوں کی 75 لاشوں کی شناخت کی ہے جہاں امدادی کارکنوں نے کم از کم 93 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ غزہ شہر میں التابعین مدرسے کے احاطے پر ہفتے کو صبح سے پہلے کیے گئے حملے میں کم از کم 19 فلسطینی مزاحمت کار مارے گئے جو اسے عسکری مرکز کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔اے ایف پی آزادانہ طور پر ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کرنے سے قاصر تھا۔
غزہ سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود بسال نے اے ایف پی کو بتایا، "التابعین سکول پر حملے میں 93 اموات ہوئی ہیں جن میں سے 75 کی شناخت ہو گئی ہے۔ دوسروں کی ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی ہے کیونکہ بمباری سے کچھ لاشیں مسخ ہو گئی اور جل گئی ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ ہلاک شدگان میں 11 بچے اور چھے خواتین شامل تھیں۔
غزہ شہر کے الاہلی ہسپتال کے ایمرجنسی ڈاکٹر امجد علیوا نے تصدیق کی کہ حملے میں ہلاک شدہ 75 افراد کی شناخت ہو گئی تھی۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "اب بھی ایسی لاشیں ہیں (جن کی شناخت معلوم نہیں ہے) جو مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، "کچھ خاندان ایسے بھی ہیں جو بےگھر ہونے کی وجہ سے (غزہ کی پٹی کے) جنوب کی طرف منتقل ہو گئے ہیں اور اپنے اقارب کی شناخت نہیں کر سکتے۔”دریں اثناء اسرائیلی نیوز ویب سائٹ ولا نے فوج کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ حملے میں 38 عسکریت پسند مارے گئے۔
اے ایف پی کی جانب سے اس رپورٹ کے بارے میں سوال پر اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ بعد میں جواب دے گی۔فوج نے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات موصول ہونے پر اس نے سکول کے احاطے پر حملہ کیا۔ معلومات کے مطابق حماس کے عسکریت پسند اسے اسرائیل اور اس کی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
فوج نے کہا، "تین عدد درست گولہ بارود کا استعمال کرتے ہوئے حملہ کیا گیا” اور مزید کہا کہ "اس احاطے کو کوئی شدید نقصان نہیں پہنچا جہاں دہشت گرد موجود تھے۔”