اسکولی نصاب میں اجیت دادا پوار کی زندگی اور خدمات پر مبنی سبق شامل کیا جائے: رکن اسمبلی راجکمار بڈولے کا مطالبہ

اسکولی نصاب میں اجیت دادا پوار کی زندگی اور خدمات پر مبنی سبق شامل کیا جائے: رکن اسمبلی راجکمار بڈولے کا مطالبہ

ممبئی: ریاست کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت دادا پوار کی انتظامی صلاحیت، تیز رفتار کام کرنے کی روایت اور ترقیاتی ویژن کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے ان کی زندگی اور خدمات پر مبنی ایک خصوصی سبق اسکولی نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔ یہ مطالبہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رکن اسمبلی راجکمار بڈولے نے اسمبلی میں کیا۔

اسمبلی کے آخری ہفتہ کی قرارداد پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے راجکمار بڈولے نے کہا کہ اجیت دادا پوار کی شخصیت اور طرزِ کار کے کئی پہلو ایسے ہیں جنہیں تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے تعلیم محکمہ سے اپیل کی کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تاکہ طلبہ کو ایک مؤثر انتظامی لیڈر کی عملی زندگی سے سیکھنے کا موقع مل سکے۔ انہوں نے اجیت دادا پوار کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نظم و ضبط، وقت کی پابندی، مضبوط انتظامی گرفت، مالیاتی معاملات میں سختی، عوامی مسائل کے فوری حل کا نظام، معیاری تعمیرات پر زور، ماحول دوستی اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کا رجحان طلبہ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

بڈولے نے کہا کہ اجیت دادا پوار کی روزانہ صبح سویرے کام شروع کرنے کی عادت اور انتظامی امور کو مؤثر انداز میں نمٹانے کا طریقہ ان کی شناخت تھا۔ انہوں نے ریاست کے مالیاتی نظام پر مضبوط گرفت رکھتے ہوئے سرکاری وسائل کے استعمال میں سخت نظم و ضبط کو یقینی بنایا، جو طلبہ کے لیے ایک مثالی سبق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اجیت دادا پوار کے عوامی دربار کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس کے ذریعے وہ عوام کے مسائل براہ راست سنتے اور موقع پر ہی ان کا حل نکالتے تھے، جو جمہوری نظام میں عوامی رابطے کی ایک بہترین مثال ہے۔

رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ اجیت دادا پوار ترقیاتی کاموں میں معیار اور وقت کی پابندی پر ہمیشہ زور دیتے تھے اور مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو ترجیح دیتے تھے۔ انہوں نے درختوں کی شجرکاری اور ماحول کے تحفظ میں بھی خصوصی دلچسپی لی اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجی کو انتظامیہ میں شامل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ راجکمار بڈولے نے ’بارامتی ماڈل‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بارامتی میں زرعی، تعلیمی اور صنعتی ترقی اجیت دادا پوار کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، اور اس ماڈل کو ریاست بھر میں نافذ کرنے کے لیے طلبہ کو ابتدائی سطح پر ہی اس سے روشناس کرایا جانا چاہیے۔

اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ رکن اسمبلی امول مٹکری نے اس سے قبل اسکولی تعلیم کے وزیر دادا جی بھوسے کو خط لکھ کر اسی نوعیت کا مطالبہ کیا تھا۔ بڈولے نے کہا کہ اجیت دادا پوار کی زندگی محض سیاست تک محدود نہیں بلکہ سماجی خدمت اور ترقی کے عزم کی عکاس ہے، اور ان کی شخصیت طلبہ کے لیے ایک مثالی نمونہ بن سکتی ہے۔

NCP Urdu News 25 March 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading