اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے گذشتہ روز غزہ کی پٹی میں حماس کے 450 فوجی ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ دوسری طرف غزہ کے ہزاروں شہری اقوام متحدہ کے امدادی سامان کے گوداموں میں داخل ہوئے ہیں اور ضروری اشیا حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
خلاصہ
فلسطینی وزرات صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 8000 سے تجاوز کر گئی ہے
عالمی تنظیم ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے غزہ کے تنازعے کو فوری طور پر کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘یہ ایک ناقابل برداشت حد تک تکلیف دہ ہے۔’
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ہزاروں مظاہرین نے غزہ میں جنگ بندی کے حق میں مظاہرہ کیا ہے۔
جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسرائیل اور حماس کے درمیان انسانی بنیادوں پر جنگ بندی پر فوری عمل درآمد کے لیے اردن کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کو متفقہ طور پر قبول کر لیا ہے
اسرائیل کا حماس کے 450 ٹھکانوں‘ پر بمباری کا دعویٰ، غزہ کی سڑکوں پر زمین بوس عمارتوں اور گھروں کے مناظر : ویڈیو دیکھیں pic.twitter.com/scwufxtQf0
— Waraque E Taza News (@WaraqueTazaUrdu) October 29, 2023
اسرائیلی فوج نے غزہ میں یرغمال بنائے جانے والے افراد سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق یرغمالیوں کی تعداد 229 ہے
غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور ایسے میں جاری امدادی کارروائیاں
ان تصاویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں، غزہ کے اہم شہر خان یونس کے کُچھ حصوں میں عمارتیں تباہی کے مناظر پیش کر رہی ہیں اور ایسے میں امدادی کارکُنان زمین بوس ہونے والی ان عمارتوں میں پھنس جانے والوں کی تلاش میں ہیں۔
کچھ تصاویر آپ کے لیے تکلیف کا باعث بھی ہو سکتی ہیں۔
ان تصاویر میں خان یونس کے ناصر ہسپتال کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ گزشتہ روز غزہ میں شہریوں کو ایک بار پھر جنوب کی جانب جانے کے لیے کہا گیا تھا جہاں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کوششوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
پوسٹ کیا گیا 15:3015:30
’گزشتہ روز سے اب تک غزہ میں حماس کے 450 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا چُکا ہے:‘ آئی ڈی ایف
غزہ
EPACopyright: EPA
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے جنگی طیاروں نے گزشتہ روز غزہ کی پٹی میں حماس کے 450 سے زائد فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے گئے ہیں۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ ’اہداف میں فوجی ہیڈ کوارٹرز، متعدد چیک پوسٹوں اور بھاری توپ خانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘ آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیلی فورسز نے حماس کے اُن ٹھکانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے کہ جہاں سے اسرائیل پر مزائل داغے جانے کا سلسلہ جاری تھا۔‘
سوشل میڈیا پوسٹ میں آئی ڈی ایف نے مزید کہا کہ زمینی فوجی بھی اب لڑائی میں شامل ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت کے ترجمان ایلون لیوی نے اس بات کا اظہار بھی کیا ہے کہ تین ہفتے قبل یرغمال بنائے گئے 230 افراد کے مستقبل کے بارے میں وہ ’فکر مند‘ ہیں۔
انھوں نے بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو سے بات کرتے ہوئے حماس کی جانب سے اسرائیل پر ہونے والے 7 اکتوبر کے حملے کو ’انسانی تاریخ کا ایک بڑا حملہ قرار دیا‘ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل ’پرعزم ہے کہ ایسا دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔‘
لیوی کا کہنا ہے کہ ’یہ وہ جنگ نہیں ہے جو اسرائیل نے شروع کی تھی۔ یہ ایسی جنگ نہیں ہے جس کی اسرائیل کو توقع بھی تھی۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو حماس نے شروع کی اور ہمارے خلاف اس کا اعلان کیا۔‘
لیوی نے ’حماس کو تباہ کرنے‘ کے عہد کا اعادہ کیا اور غزہ میں شہریوں پر زور دیا کہ وہ ’نقصان دینے والے اس راستے سے دور رہیں۔‘







