مفتی محمد احمد خان قاسمی
(امام وخطيب مسجد قریششہ منیار گلی ناندیڑ)
_________________________
قانون قدرت کل من علیہا فان کے مطابق آج بروز اتوار (12 اپریل 2020)ترجمان جامعہ اکل کوا حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب فلاحی بھی اپنے رب حقیقی سے جاملے، اس روح فرسا حادثہ کی خبر جب ملی تو دل کو دھکا لگا اور یو محسوس ہوا کہ یہ خبر جھوٹی ہے، اور اسی وقت قاری عمر صاحب اشاعتی ناندیڑ جو اسوقت جامعہ اکل کوا میں ہی ہے فون پر ربط کیا تو معلوم ہوا کے اب حضرت ہمارے درمیان نہیں رہے اور قاری صاحب کے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب فلاحی رحمتہ اللہ علیہ ہمارے دور کی عظیم ترین شخصیت تھی، ایسی شخصیت جس کی تعمیر برسوں میں ہوتی ہے اور بڑی مشکل سے ہوتی ہے، ایسی بلند وبالا ہستی جس کے دیدار کے لئے نرگس کو ہزاروں سال اپنے بے نوری پر رونا پڑتا ہے. آپ کی ذات مائہ ناز انشاء پرداز وبا اسلوب صاحب قلم کی تھی، اشعارات وتمثیلات کے امام وقت تھے، اور علوم شریعت کی نادر الوجود شخصیت تھی، زمانہ طالب علمی میں دارالعلوم سیندھوا میں آپ سے استفادہ کاموقع بہت مرتبہ نصیب ہوا کیونکہ مولانا یعقوب صاحب خان پوری ہر مسابقہ اور اکثرو بیشتر سالانہ اجلاس میں آپ کو مدعو کیا کرتے تھے اور آپ مصروفیات کے باوجود بھی سیندھوا آجاتے تھے اور جب بول تے تھے تو مجمعہ پرچھاجاتے تھے اور آپ اپنے شاگردوں پر خصوصی توجہ فرماتے تھے، ذھین طلباء کے لئے تدریس کے مواقع مرحمت فرماتے، غریب طلباء کی مدد ونصرت فرماتے، چاہیے عام ہو یا خاص آپ سے جوبھی مل تا بڑا خوش ہوتا، اور ہمیشہ ان لمحات کو اپنے زندگی میں یاد رکھتا، کیونکہ آپ ہر ایک سے بڑی خوش دلی کے ساتھ پیش آتے تھے،آج آپ کے وہ لمحات یاد آرہے ہیں اور یہ اشعار،
*یاد آئیں گے زمانہ کو مثالوں کے لئے*
*جیسے بوسیدہ کتابیں ہیں حوالوں کےلئے*
جیسے آپ جاتے جاتے زبان حال سے یو گویا ہوں گے
*جان کر من جملہ خاصان میخانہ مجھے*
*مدتوں رویا کرے گے جام وپیمانہ مجھے*
جب بھی رمضان کا موقع آتا ہے حضرت کی ایک تالیف ہر ایک حافظ وعالم اور خاص کر أبناء جامعہ کے ہاتھ میں نظر آتی *تحفہ تراویح* اس لئے لاک ڈاؤن کا وقت ہے اور ہزاروں شاگردوں کی یہ تمنا تھیں ہوگی کے ہم حضرت کے جنازے میں شرکت کرتے اور ان کا آخری مرتبہ دیدار کرتے لیکن یہ ہو نہیں سکا اس لئے اس رمضان میں کثرت سے قرآن کریم پڑھے اور ایصال ثواب کریں،اور شیخ الحدیث قطب الاقطاب حضرت مولانا شیخ زکریا رحمتہ اللہ علیہ نے تو جگہ جگہ اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے، جب بھی آپ کے کسی اولاد یا عزیز کا انتقال ہوا، اپنے محبین، معتقدین، اور اعزاء واقرباء کو خط لکھا کہ یہ واقع پیش آیا ہے، آنے کی ضرورت نہیں ہے، ان کے لئے ایصال ثواب کردینا، آنے جانے میں جو پیسے خرچ ہوں گے انہیں ان کی طرف سے صدقہ وخیرات کردینا. اس لئے جتنے محبین جا سکتے تھے وہ اتنی رقم حضرت کے لئے صدقہ وخیرات کردیں. الغرض حضرت کے انتقال سے جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کا غیر معمولی نقصان ہوا ہے۔
اس موقع پر ہم مجلس تحفظ شریعت ناندیڑ کے تمام ہی اراکین رئيس الجامعہ حضرت مولانا غلام صاحب وستانوی، اور مولانا مرحوم کے تمام اہل خانہ،اور پورے فرزندان جامعہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں،اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت حضرت کی بال بال مغفرت فرمائے اعلیٰ علیین میں جگہ نصیب فرمائے، اور اللہ آپ کی تمام دینی کوششوں کو قبول فرمائے اور بہترین بدلا عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین