ٹوویٹر پرپابندی لگاکر لوگوں کی بولنے کی آزادی کوچھیننا کسی طور درست نہیں

ممبئی: شردپوارصاحب ملک کے صدرجمہوریہ بننے کی باتیں بے بنیاد ہیں اور اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ یہ بات قصداًپھیلائی گئی ہے۔یہ وضاحت آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیرنواب ملک نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روزسے میڈیا میں یہ خبریں آرہی ہیں کہ شردپوار صاحب صدرجمہوریہ بنیں گے، جبکہ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ فی الوقت صدرجمہوریہ کا انتخاب نہیں ہے، پانچ ریاستوں کے انتخابات ہونے والے ہیں، اس کے بعد کیا صورت حال ہوتی ہے وہ واضح ہوجائے گی۔ لیکن پارٹی کے اندر صدرجمہوریہ کے تعلق سے کبھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی یا کسی دوسری پارٹی کے ساتھ بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ میڈیا میں جو باتیں پھیلائی جارہی ہیں اس میں ذرا بھی سچائی نہیں ہے اور سب بے بنیادہیں۔

نواب ملک نے مرکزی حکومت کے ذریعے ٹوویٹر کے خلاف کی جانے والی کارروائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے بولنے اوراپنی آواز اٹھانے کا حق ہے اورکسی سے یہ حق چھیننے کی کوشش کرنا کسی طوردرست نہیں ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ٹوویٹر وہ پلیٹ فارم ہے جس پر لوگ آزادی کے ساتھ اپنا موقف بیان کررہے تھے اور حقیقی صورت حال لوگوں کے سامنے لارہے تھے۔ صورتحال کو سامنے لا رہی تھی

۔لیکن جس طرح ملک بھر میں میڈیا کے دیگرذرائع مرکزی حکومت کے ذریعے کنٹرول ہورہے ہیں اسی طرح ٹوویٹر کو بھی کنٹرول کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹوویٹر ایک واحد ذریعہ بچاتھا جہاں لوگ اپنا موقف بے خوف ہوکر پیش کررہے تھے۔ اگر کوئی شخص جھوٹی معلومات یا افواہ پھیلاتا ہے تو آئی ٹی سیل کے مختلف دفعات کے تحت اس کے خلاف کارروائی کی جارہی تھی۔ نواب ملک ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹوویٹر پر کسی کا کنٹرول نہیں تھا لیکن اسے اب مرکزی حکومت کے ذریعے براہ ِ راست کنٹرول کیا جائے گا جو کسی طور مناسب نہیں ہے۔