NCP Urdu News 31 Oct 23

ریاست کی موجودہ صورتحال کے لیے وزیر اعلیٰ اور دونوں نائب وزرائے اعلیٰ ذمہ دار

این سی پی کے قومی جنرل سکریٹری اورپارٹی وہپ جتیندر اوہاڈ کا استعفیٰ وصدرراج کامطالبہ

ممبئی:ریاست کی موجودہ صورت حال کے لیے وزیر اعلیٰ اوردونوں نائب وزیر اعلیٰ ذمہ دار ہیں۔یہ لوگ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اورریاست میں صدرراج نافذ کیا جائے۔ یہ مطالبہ این سی پی کے قومی جنرل سکریٹری اور پارٹی کے وہپ و ایم ایل اے جتیندر اوہاڈ نے کیا ہے، وہ یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مراٹھا ریزرویشن کی وجہ سے ریاست میں عدم استحکام کا ماحول پیدا ہوا ہے۔منوج جرانگے پاٹل نے پہلے ہی شندے حکومت کو 40 دن کا وقت دیا تھا،لیکن حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اب مراٹھا برادری کے ریزرویشن کے لیے دوبارہ احتجاج کرنا پڑا ہے۔ منوج جرانگے پاٹل نے ایک بار پھر بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے کیونکہ ریاستی حکومت نے جو وعدہ کیا تھا، اس نے وہ پورا نہیں کیا۔ اس لیے مراٹھا ریزرویشن کے معاملے کو لے کر ریاست کا ماحول ایک پھر بھڑک گیا ہے۔ خاص طور پر مراٹھواڑہ کے کئی اضلاع میں اس تحریک نے پرتشدد شکل اختیار کر لی ہے۔ اس صورتحال کے لیے ریاست کے وزیر اعلیٰ اور دو نائب وزیر اعلیٰ ذمہ دار ہیں۔ انہیں اس صورت حال کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدینا چاہئے۔اسی کے ساتھ ریاست میں صدرراج نافذ کیا جانا چاہئے۔

اوہاڈ نے کہا کہ پیر کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران اسمبلی کے اسپیکر ایم ایل ایز کی نااہلی کیس میں تاخیر کررہے ہیں، عدالت کی جانب سے اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ عدالت نے اسپیکر کو ہدایت کی کہ شیوسینا پارٹی کے بارے میں 31 دسمبر تک اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے بارے میں 31 جنوری تک فیصلہ کریں۔این سی پی کی جانب سے 2جولائی کواسپیکر کو نااہلی کا نوٹس دیا گیا تھا۔ شیوسینا کی عرضی بھی دونوں کے خلاف ہے۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے کہا کہ دونوں درخواستیں ایک جیسی ہیں۔ اس لیے درخواستوں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ شیو سینا کے ایم ایل ایز کے لیے لیا گیا فیصلہ این سی پی کانگریس پارٹیوں پر بھی لاگو ہوگا۔

اوہاڈ نے کہا کہ اس ملک میں پارٹیوں میں بغاوت کرانے کے ذریعے حکومت گرانے کا کام جاری ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پرلگام لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے شیو سینا کے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ صرف ایک سیاسی جماعت کو وہپ کی تقرری کا حق ہے۔ اس لیے ریاستی صدر اور قانون ساز لیڈر جینت پاٹل کو وہپ کا حق حاصل ہے۔ شرد پوار این سی پی کے قومی صدر ہیں۔ وہ آج ہیں اور کل بھی رہیں گے۔ایم ایل ایز کی نااہلی سے متعلق فڈنویس کا یہ کہنا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ نااہل قراردیئے جاتے ہیں تو انہیں ایوانِ بالا میں لے کر وزیراعلیٰ بنایاجائے گا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شیو سینا اور این سی پی دونوں کے 80 ایم ایل ایز کو ایک ساتھ نااہل قرار دیا جانا حکومت کی سب سے بڑی شکست ہوگی۔اس کے نتائج انتخابات میں نظر آئیں گے۔اوہاڈ نے کہا کہ کسی طبقے کو یقین دلانا اور ان کی امیدوں پر پانی پھیرنا نہایت غلط ہے۔ میں جرانگے پاٹل کو مبارکباد دیتا ہوں کہ سماجی استحکام کے لیے انھوں نے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ این سی پی ان کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ لیکن میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ کم ازکم پانی تو پیئیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading