متنازعہ بیانات دینے والے گورنرسماج میں تنازعہ پیدا کرنا چاہتے ہیں: شردپوار

10
  • شیواجی مہاراج کی توہین کرکے گورنرنے حدپارکردی ہے
  • کرناٹک اگر بیلگاؤں، کاروار، نیپانی جیسے گاؤں چھوڑنے پر رضامند ہو تو بات چیت ہوسکتی ہے

ممبئی: ریاست میں اپنی تقرری کے بعد گورنرنے متنازعہ بیانات دینے کے لیے شہرت حاصل کرلی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ گورنرنے اپنا یہ مشن بنالیا ہے کہ متنازعہ بیانات دے کر سماج میں تنازعہ پیدا کی جائے۔ یہ باتیں این سی پی قومی سربراہ شردپوار نے کہی ہیں۔

پارٹی دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شردپوارنے کہا کہ مہاتما پھلے، ساوتری بائی پھلے اور چھترپتی شیواجی مہاراج کے بارے میں بات کرتے ہوئے گورنر جیسے عہدے پر بیٹھے شخص کو احتیاط برتناچاہئے او راگر کچھ کہنا ہی ہے تو جو سچائی ہے وہی بیان کرنا چاہئے۔لیکن افسوس کہ ایک ایسے شخص کو مہاراشٹرمیں گورنربناکر بھیج دیا گیا ہے جسے اپنی ذمہ داری کا کوئی احساس نہیں ہے۔شردپوار نے کہا کہ گورنر ایک آئینی عہدہ ہے، اس عہدے کے وقار کو ملحوظ رکھنا اس عہدے پر براجمان شخص کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس بارے میں کوئی کچھ بھی نہیں بولتا۔ اس کے برخلاف چھترپتی شیواجی مہاراج کے بارے میں بیان دے کر گورنر نے اپنی حد ختم کردی ہے۔ شردپوار نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کے بارے میں متنازعہ بیان دینے کے بعد گورنر کا تعریفی بیان بھی سامنے آیا ہے لیکن یہ وقت گزرنے کے بعد اختیار کی گئی ہوشیاری ہے۔ اس لیے صدرجمہوریہ ووزیراعظم کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ ایسے شخص کے پاس ذمہ داری دینا کسی طور مناسب نہیں ہے۔

کرناٹک اور مہاراشٹر کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعہ کے بارے میں شردپوار نے کہا کہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے مہاراشٹر کے کچھ گاؤں پر دعویٰ کیا ہے، لیکن ہم کئی سالوں سے بیلگاؤں، کاروار، نیپانی سمیت دیگر گاؤں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب کرناٹک کے وزیر اعلیٰ مہاراشٹر کے کچھ گاؤں مانگ رہے ہیں، لیکن اگر وہ بیلگاؤں، کاروار، نیپانی چھوڑ نے والے ہوں تو انہیں کیا دیا جا سکتا ہے؟ اس پر بات چیت ہوسکتی ہے۔لیکن بغیرکسی وجہ کے کوئی بھی مطالبہ کرنا عقل مندی کی دلیل ہرگز نہیں ہے۔ گجرات انتخابات کے لیے مہاراشٹر میں تعطیل دیئے جانے پر شردپوار نے کہا کہ گزشتہ 50-55سالوں میں کبھی نہیں سنا کہ کسی دوسری ریاست میں انتخابات کے لیے اپنی ریاست میں چھٹیاں دی گئی ہوں۔ اس سے ایسا لگتا ہے کہ گجرات کی صورت حال تشویشناک ہے۔ شردپوار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کل جو باتیں کہی ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بہت صاف ستھرا موقف ہے۔ ان تمام تقرریوں میں عدالت کو بتانے کا وقت آگیا ہے۔ اب تک سپریم کورٹ صاف اور صاف بات نہیں کر رہی تھی لیکن اب اس نے بولنا شروع کر دیا ہے۔ یہ بات عدالت بھی دیکھ رہی ہے کہ کس طرح اقتدار کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں کسان آج پریشان ہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ کسان خود کو اس طرح شدید بحران میں پارہے ہیں۔ ان کے ساتھ کھڑا ہونا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت ٹھوس قدم اٹھاتی نظر نہیں آتی جو نہایت افسوسناک ہے۔