ودربھ و مراٹھواڑہ میں شدید بارش کے متاثرین کو فوری معاوضہ دیا جائے

5

حزبِ مخالف لیڈر اجیت پوار کا وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کو مکتوب

ممبئی: ودربھ ومراٹھواڑہ کے شدید بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد حزبِ مخالف لیڈراجیت پوار نے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے سے ایک مکتوب کے ذریعے متاثرین کی فوری مدد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کی اطلاع انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے دی ہے۔

اجیت پوار نے ودربھ ومراٹھواڑہ میں کسانوں کے نقصان کے بارے میں میڈیا کو تفصیلی جانکاری دی۔انہوں نے کہا کہ ودربھ، مراٹھواڑہ میں کسانوں کی سویابین پر گھونگوں کے حملے کی وجہ سے کئی ہزار ہیکٹر کی فصل متاثر ہوئی ہے۔ ان علاقوں کا وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ نے بھی دورہ کیا لیکن ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے مرکز کو ابھی تک کوئی اطلاع نہیں دی ہے کیونکہ مرکزی ٹیم معائنہ کرنے نہیں آئی ہے۔اجیت پوار نے کہا کہ خریف سیزن اب ختم ہو چکا ہے۔اس کے بعد ربیع کا سیزن آئے گا۔ اس لیے محکمہ زراعت اور حکومت کو اس معاملے کی فوری نوٹس لینی چاہئے۔شدید بارش سے متاثرہ بعض مقامات پر پنچنامہ نہیں کیا گیا ہے۔ ان کسانوں کو فوری مالی امدادملنی چاہیے تھی۔ کچھ جگہوں پر جہاں جانی نقصان ہوا ہے، 4 لاکھ کی مدد موصول ہوئی ہے۔ لیکن یہ امداد معمولی ہے اور اس میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ مویشیوں کے ہلاک ہونے کا معاوضہ نہیں دیا گیا وہ بھی فوری طور پر دیا جانا چاہیے۔ شدید بارشوں سے مکانات اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حکومت کو انہیں دوبارہ کھڑا کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔پوار نے کہا کہ کپاس، سویابین کا زبردست نقصان ہوا ہے۔ اس کو اہمیت دیے بغیر وزیراعلیٰ اپنے استقبالیہ پروگرام کو ترجیح دے رہے ہیں جو کہ بے حسی کی انتہا ہے۔چیف منسٹر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ودربھ مراٹھواڑہ میں گیلے خشک سالی کا اعلان کریں، جہاں پہلے بھاری بارش ہوئی تھی۔ وہاں خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، فی ہیکٹر 75 ہزار روپے اور باغات کے لیے 1.5 لاکھ روپے فی ہیکٹر معاوضہ فوری طور پر دیا جائے۔ اس کے علاوہ اجیت پوار نے بھاری بارش سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کے بچوں کی تعلیمی فیس معاف کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔اجیت پوار نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ریاست میں ترقیاتی کاموں کی معطلی کو فوری طور پر ہٹایا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے عوام میں اس حکومت کے تئیں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے۔

سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ ریاستی حکومت یہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا قدم اٹھائے گی۔ نرملا سیتا رمن ملک کی وزیر خزانہ ہیں، ان کا بیان پڑھیں اور پھر آپ کسی عام گھریلو خاتون سے پوچھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ مہنگائی کتنی بڑھ گئی ہے۔ 2016 میں نوٹ بندی کے وقت کیش لیس کا بھرم پیدا کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ کالا دھن باہر آئے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آر بی آئی نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ کتنے جعلی نوٹ ملے ہیں۔ کہاجارہا ہے کہ دو ہزار کا نوٹ ڈپم کردیا گیا ہے، مرکزی ایجنسیوں کو اس بارے میں تفتیش کرنی چاہئے۔ بی جے پی کے صدر جے پی نڈا کے علاقائی پارٹیوں کے ختم ہونے کے بیان پر صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اجیت پوار نے کہا کہ کوئی کچھ بھی کہے، عوام کے ذہن میں جو ہوگا وہی ہوگا۔

اجیت پوار نے کہا کہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود کابینہ میں توسیع نہیں ہوئی۔سوال یہ ہے کہ کیا انہیں دہلی سے کوئی اشارہ نہیں مل رہا ہے یا ایم ایل اے کی تعداد میں اضافہ کی وجہ سے یہ توسیع رکی ہوئی؟انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پاس تمام محکموں کے اختیارات ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کو کوئی کھاتہ نہیں دیا گیا ہے۔ ہر فائل وزیر اعلیٰ کے پاس جا رہی ہے۔ لیکن دستخط نہ ہونے کی وجہ سے فائلیں رک گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے پاس دستخط کرنے کا وقت نہیں ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کو بااختیار نہیں بنایا گیا ہے۔ اجیت پوار نے یہ بھی کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ریاستی حکومت کے اختیارات میں تیزی لائی جائے اور عوام کے کام کئے جائیں۔اس موقع پر اجیت پوار نے شندے وفڈنویس حکومت پر طنز بھی کیا اور کہا کہ کل کابینہ کی میٹنگ ہے جوصرف ’دولوگوں‘ کی اہم میٹنگ ہے۔