NCP Urdu News 17 July 21

این سی پی وبی جے پی کے نظریات بالکل الگ ہیں، اس لئے ایک ساتھ آنا ممکن نہیں: نواب ملک

شردپوار اور نریندرمودی کی ملاقات پہلے سے طئے شدہ تھی

بی جے پی واشنگ مشین ہے جس میں ڈاکو بھی سادھو ہوجاتا ہے

ممبئی: جس طرح کے ندی کے دوکنارے کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے،بالکل اسی طرح این سی پی وبی جے پی بھی ایک نہیں ہوسکتے، کیونکہ دونوں پارٹی کے نظریات ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ اس لئے این سی پی وبی جے پی کے ایک ساتھ آنے کی جو باتیں ہورہی ہیں، ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ یہ وضاحت آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کی ہے۔واضح ہوکہ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدرشردپوار اوروزیراعظم نریندرمودی کے درمیان آج ہوئی ملاقات کے بعد این سی پی وبی جے پی کے ایک ساتھ آنے کی اٹکلیں لگائی جارہی تھیں، نواب ملک نے ان پر فل اسٹاپ لگادیا ہے۔

نواب ملک نے کہا کہ راشٹروادی کے راشٹرواد اور بی جے پی کے راشٹرواد میں زمین وآسمان کا فرق ہونے کے ساتھ ہی دونوں پارٹیوں کے نظریات بھی بالکل الگ ہیں۔ اس لئے یہ کہنا کہ دونوں پارٹیاں ایک ساتھ آئیں گی، اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ ریاست کے حزبِ مخالف لیڈر دیوندرفڈنویس پر نام لئے بغیر تنقید کرتے ہوئے نواب ملک نے کہا کہ ریاست میں فی الوقت جو مہاوکاس اگھاڑی حکومت قائم ہے وہ کامن مینمم پروگرام کے تحت قائم ہوئی ہے۔ یہ حکومت نہایت مضبوطی اور کامیابی کے ساتھ کام کررہی ہے، لیکن کچھ لوگ تاریخ پر تاریخ پر دے کر یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ دوبارہ واپس آئیں گے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے بارش کی پیشین گوئی کرنے پر کم ازکم بارش تو ہوتی ہے لیکن ان کی پیشین گوئی کبھی صحیح ثابت نہیں ہوتی ہے۔

شردپوار اور نریندرمودی کے درمیان ہوئی ملاقات کے بارے میں نواب ملک نے کہا کہ یہ ملاقات پہلے سے طئے شدہ تھی اور یہ ملاقات وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے اور کانگریس کے ریاستی انچارج ایچ کے پاٹل کی ایماء پر ہوئی تھی۔ نواب ملک نے کہا کہ بینکنگ ریگولیٹری ایکٹ میں تبدیلی کی گئی ہے جو کوآپریٹیو بینکوں کے لئے خطرناک ہے۔ اس بارے میں شردپوارصاحب نے وزیراعظم نریندرمودی سے فون پر بات کی تھی۔ لیکن نریندرمودی کے ذریعے یہ کہنے پر کہ اس موضوع پر مل کر بات کریں گے، شردپوار صاحب نے وزیراعظم سے بالمشافہ ملاقات کرتے ہوئے اس موضوع پر مزید بات چیت کی۔

نواب ملک نے کہا کہ بینکنگ ریگولیٹری قانون میں جو نئی تبدیلیاں کی گئی ہیں، اس کے مطابق جو لوگ بینکوں سے قرض لیں گے، انہیں اس بینک کا ڈھائی فیصد شیئر خریدنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قرض واپس کرنے کی صورت میں یہ شیئر کسی کوبھی فروخت کرنے کا اختیار اس شخص کو دیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہ شیئر بینکوں کو واپس کرنے کا قانون تھا، لیکن اس کھلے بازر میں شیئر فروخت کرنے کی صورت میں کوآپریٹیو بینکوں پر ساہوکاروں وسرمایہ داروں کا قبضہ ہونے کے خدشے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ریزوربینک کی اس نئے قانون کی وجہ سے کوآپریٹیو بینکوں کی خودمذمختاری کونقصان پہنچے گااور ان کے شرح سود بھی اثرپڑے گا۔ ان خدشات پر مشتمل میمورنڈم شردپوار صاحب نے وزیراعظم کے روبرو پیش کیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ پوارصاحب اور وزیراعظم کے درمیان ہوئی اس بات چیت سے مرکزی حکومت کوئی مثبات فیصلہ کرے گی۔

اس موقع پر نواب ملک نے بی جی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی واشنگ مشین کی طرح ہے، یہاں ڈاکوبھی سادھو ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نرائن رانے جب کانگریس میں تھے تو ان کے پریل میں ایک عمارت کو ای ڈی کی جانب سے نوٹس دیئے جانے کی باتیں بی جے پی نے پھیلائی تھیں۔ جب رانے نے احمدآباد میں امیت شاہ سے ملاقات کے بعد اس کا انکار کردیاتھا تو بی جے پی والوں نے ہی ان کی احمدآباد میں ملاقات کی ویڈیو وائرل کی تھی۔ اسی طرح بی جے پی نے مغربی بنگال میں لوگوں کو اپنی پارٹی میں شامل کیا تھا۔ یعنی ای ڈی، سی بی آئی ودیگر تفتیشی ایجنسیوں کے ذریعے بی جے پی اس طرح کی صورت حال پیدا کرتی ہے کہ لوگ بی جے پی میں شامل ہونے پر مجبور ہوجائیں۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی سچائی ہے کہ بی جے پی میں جانے کے بعدتفتیش اچانک بندہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نتن گڈکری نے کہا تھا کہ ڈاکو کو سادھو کرنے کی طاقت ہماری پارٹی میں ہے۔

نواب ملک نے کہا کہ شردپوار کو بھی ای ڈی نے نوٹس دی تھی، لیکن اسے واپس لے لیا گیا۔ 2019میں این سی پی نے ای ڈی کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا تھا۔ اس لئے ہمارے لیڈران یا ہمارے کارکنان اس طرح کی نوٹسوں سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوتے ہیں۔ نواب ملک نے کہا کہ ہمارے لیڈران ان ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کررہے ہیں، جو کارروائی کررہی ہیں۔ ہمارے لیڈر ان نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔ لیکن مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ ایجنسیوں کی ان کارروائیوں کو روکنے کے لئے ہمارے کسی بھی لیڈر نے کبھی بھی مودی یا شاہ سے ملاقات نہیں کی۔