• 425
    Shares

عدالتی حکم کے مطابق این سی بی کے ذریعے گانجا ضبط کئے جانے کے دعوے میں کوئی سچائی نہیں ہے: نواب ملک

این سی بی جیسی مرکزی ایجنسی کو گانجا اورتمباکو کے درمیان کا فرق نہ معلوم ہونا افسوسناک ہے

سمیرخان پراین سی بی کی کارروائی پر عدالت کا سوالیہ نشان

ممبئی: عدالتی حکم کے مطابق این سی بی کے ذریعے گانجاضبط کئے جانے کے دعوے میں کوئی سچائی نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس لئے این سی بی کے ذریعے سمیرخان ودیگر دولوگوں کے خلاف این ڈی پی ایس قانون کی دفعہ27(A) کے تحت درج کیا گیا مقدمہ کالعدم ہوجاتا ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے ایک پریس کانفرنس میں دی ہے۔انہوں نے کہا کہ این سی بی جیسی مرکزی ایجنسی کے لئے گانجااورتمباکو کے درمیان کا فرق نہ معلوم ہونا افسوسناک ہے۔واضح رہے کہ نواب ملک گزشتہ کئی دنوں سے پریس کانفرنس کے ذریعے این سی بی کی دھاندھلی کو اجاگر کررہے ہیں۔

اس سے قبل نواب ملک نے کروز ڈرگس کیس میں این سی بی کی کارروائی پر سوال اٹھایا تھاجس کے بعدیہ کہا جانے لگا کہ چونکہ این سی بی نے نواب ملک کے داماد کے خلاف بھی کارروائی کی تھی اس لئے وہ این سی بی کو نشانہ بنارہے ہیں۔ نواب ملک نے آج کے پریس کانفرنس میں اس کا تفصیلی جواب دیا اور اپنے داماد کی گرفتاری کی حقیقت اور اپنا موقف میڈیا کے سامنے پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو این ڈی پی ایس کی خصوصی عدالت نے ساڑھے آٹھ ماہ بعد سمیر خان، کرن سجنانی اور راحیلہ فرنیچر والا کی ضمانت منظور کرلی تھی لیکن عدالت کا تحریری حکم نامہ کل یعنی بدھ کو موصول ہوا ہے۔جسٹس جوگلیکر نے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے۔اس لئے میں آج اس ضمن میں بات کررہا ہوں۔

نواب ملک نے بتایا کہ 14 جنوری کو این سی بی کا عملہ میرے داماد کے گھر چھاپہ مارنے گیا۔ تمام نیوز چینلز پر دکھایا گیا کہ بڑی مقدار میں گانجا ضبط کیاگیا ہے، جبکہ سچائی یہ تھی کہ این سی بی کو گھر میں کچھ نہیں ملا تھا اورکوئی ضبطی نہیں ہوئی تھی۔اس کے باوجود جھوٹی خبریں دے کر میڈیا کو بدنام کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ میں شروع سے ہی کہتے آرہا ہوں کہ این سی بی جھوٹے معاملات گڑھ کر لوگوں کو بدنام کرتی ہے۔ کرن سجنانی، راحیلہ فرنیچروالا اورسمیرخان کو فریم کیا گیا۔ ریا چکروتی کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

نواب ملک نے بتایا کہ میرے داماد کو فریم کرنے کے بعد کئی مہینوں سے ہم تناؤ کے شکار تھے، لیکن ہمارے لیڈر شرد پوار نے میری ہمت بڑھائی اور کہا کہ اگر داماد نے کچھ غلط کیا ہے تو قانون اسے سزا دے گا، لیکن داماد کی سزا سسر کو نہیں دی جاسکتی۔8 جنوری 2021 کو این سی بی نے میڈیاکو بتایا تھا کہ یونیورسل کارگو سے دو پارسلوں کا سراغ لگایا گیا ہے۔ 9 جنوری کو باندرا میں رہنے والے کرن سجنانی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ این سی بی نے ایک دفتری پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے 200 کلو گانجا ضبط کئے جانی کی خبردی۔ اسی دن 9 جنوری کو این سی بی کے ایک عہدیدار نے اپنے موبائل نمبر سے ایک پریس نوٹ اور چار تصاویر میڈیا کو بھیجیں۔ اس پریس نوٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایک برطانوی شہری کو گرفتار کیا گیاہے۔ 9 جنوری کو راحیلہ فرنیچر والا نامی لڑکی کے پاس سے ساڑھے7 گرام گانجا ضبط کیا گیا۔اس لڑکی کو اسی دن ضمانت مل گئی۔

اسی دن ملک بھر میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ 12/جنوری کورات میں 10بجے میرے داماد کواین سی بی نے سمن جاری کرتے ہوئے 13 جنوری کو صبح 10 بجے تفتیش کے لیے طلب کیا۔ اگلی صبح پونے 10 بجے میرے داماد سمیر خان این سی بی آفس پہنچے جہاں پہلے سے ہی نیوزچینلس کے کیمرے لگے ہوئے تھے۔ تمام نیوز چینلز پر میرے داماد کی تصویر دکھا کر بتایا گیا کہ منشیات کے کاروبار سے اس کا تعلق ہے۔گرفتاری کے بعد این سی بی نے تین ماہ عدالتی کارروائی میں گزاردئیے۔ این سی بی کی جانب سے 9 جنوری کو کی گئی کارروائی کی پریس ریلیزاور ضبط شدہ نشیلی اشیاء کی تصاویر این سی بی حکام کے موبائل نمبر9820111409 سے صحافیوں کو ارسال کی گئیں۔ ان تصاویر اور گمراہ کن معلومات کی بنیاد پر میڈیا نے خبرتیار کرکے دکھایاوشائع کیا۔ بالآخر کوئی کتنی بھی خبریں پلانٹ کرے میڈیا کے نمائندوں کو چاہئے کہ وہ اس کی تحقیق کرلیں۔ بدقسمتی سے اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے این سی بی کی دھاندھلی کو سچ تسلیم کرلیا گیا۔ لیکن عدالت نے سماعت کے بعد جو حکم دیا ہے اس میں این سی بی کی دھاندھلی اجاگرہوگئی ہے۔

display_pdf.pdf

CamScanner 10-11-2021 18.32.pdf

CamScanner 10-13-2021 16.34.pdf

NCB-.pdf

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔