• 425
    Shares

ممبئی: مرکزی حکومت کے اس اعلان کے بعدکہ اس کا پیگاسیس بنانے والی اسرائیلی کمپنی این ایس او سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، این سی پی نے یہ سوال کرتے ہوئے کہ پھر دنیا کا وہ کون سا ملک ہے جس نے بھارت میں آکر سیاسی لیڈران، عدالت کے ججوں، سماجی کارکنان وصحافیوں کی جاسوسی کی ہے؟، مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت جاسوسی کے اس معاملے کی تفتیش کے لیے فوری طور پر کمیٹی تشکیل دے۔

پارٹی کے قومی ترجمان نواب ملک یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ نہایت سنگین ہے اور اس کے لیے مرکزی حکومت کو فوری طورپر اس کی تفتیش کرانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جبکہ محکمہ دفاع این ایس او کے ساتھ کسی بھی طرح کے سودے سے انکار کررہا ہے،

حکومت کو چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ میں اس بات کی وضاحت کرے کہ حکومت کی کسی ایجنسی نے پیگاسیس خریدا ہے یا نہیں۔ اگر مرکزی حکومت نے یہ سودا نہیں کیا ہے اوراگر اس میں سچائی ہے تو اسے پارلیمنٹ میں اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔اگر

محکمہ دفاع کی جانب سے اس کے بارے میں کوئی بیان دیا جارہا ہے تو یہ مرکزی حکومت کی جانب سے وضاحت ہرگز نہیں ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججس، الیکشن کمیشن، وکلاء، حزبِ مخالف لیڈران، صحافی وسماجی کارکنان کے فون ٹیپ کیے جارہے ہیں اور اگرمرکزی حکومت کا وزارت دفاع یہ کہتا ہے کہ این ایس اوسے کوئی سودا نہیں ہوا ہے تو یہ نہایت سنگین معاملہ ہے۔ مرکزی حکومت کو اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔