بلقیس بانو معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے عام آدمی کو راحت: شرد پوار
ممبئی:بلقیس بانو کے مجرمین کو معاف کرنے کا فیصلہ گجرات حکومت کا تھا۔ اس فیصلے کو سپریم کورٹ نے رد کردیا ہے جس کا میں خیرمقدم کرتا ہوں۔ یہ باتیں این سی پی کے قومی صدر شرد پوار نے پارٹی دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
شرد پوار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ مجرمین کے معاملے میں غور کرنے کا حق مہاراشٹر حکومت کا ہے۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گجرات حکومت نے مہاراشٹر حکومت کی اختیار کو زبردستی لے لیا۔ اس لیے مہاراشٹر حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور اس میں سیاسی مداخلت کی اجازت نہ دے۔
شرد پوار نے کہا کہ این سی پی، کانگریس اور شیو سیناکی ایک میٹنگ ہورہی ہے، جس میں مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں مل کر کام کرنے کے طریقہ پر بات چیت ہوگی۔این سی پی کی جانب سے قومی جنرل سکریٹری جتیندر اوہاڈ اس میٹنگ میں موجود ہوں گے اور اس کے لیے میں نے اوہاڈ کو پارٹی کے مفادات کے لیے موقف اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔شردپوار نے کہا کہ انڈیا الائنس کی تمام اتحادی جماعتوں کو مل کر آئندہ انتخابات کا سامنا کرنا چاہیے۔تمام پارٹیوں کے سینئر لیڈران بھی آئندہ میٹنگوں میں شرکت کریں گے۔
شرد پوار نے مرکزی ایجنسیوں کی چھاپے ماری سے متعلق کہا کہ جب تک مرکز کی حکومت تبدیل نہیں ہوجاتی ہے اس طرح کے چھاپے ماری ہوتی رہے گی۔اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایم ایل اے روہت پوار، ایم ایل اے رویندر وائیکر کے حوالے سے بھی یہی ہو رہا ہے۔ ماضی میں بھی مہاوکاس اگھاڑی کے کئی لیڈروں کے خلاف ایسی ہی کارروائی کی جا چکی ہے۔
شرد پوار نے کہا کہ ہم نے کانگریس کے جئے رام رمیش کے ساتھ مل کر الیکشن کمیشن سے بیلٹ پیپرز پر سوالات کے جواب دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن کمیشن نے ہمارے مطالبات نہیں مانے۔ کمیشن نے جے رام رمیش کو 10 سے 15 صفحات کا خط بھیجا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔شرد پوارنے کہا کہ اجیت پوار اور ان کے ساتھ جانے والے لیڈران مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے دباؤ کی وجہ سے بی جے پی کے ساتھ گئے ہیں۔ اجیت پوار اور جو لوگ انہیں بی جے پی کے ساتھ لے گیے انہیں دوبارہ پارٹی میں نہیں آنے دیا جائے گا۔ اس تعلق سے میں نے اپنا موقف واضح کردیا ہے۔