’میگھا انجینئرنگ‘ کمپنی پر حکومت کی ’میگا‘ مہربانی

این سی پی-ایس پی کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے ایک بڑی بدعنوانی کا کیا پردہ فاش

ممبئی: این سی پی-ایس پی کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے آج اسمبلی میں حکومت کی ایک اور بڑی بدعنوانی کا پردہ فاش کیا ہے۔ جینت پاٹل نے کہا کہ حیدرآباد کی میگھا انجینئرنگ اینڈ انفرا کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ نے الیکٹرول بانڈ کے ذریعے تقریباً 584 کروڑ روپے ادا کیے۔ اس کمپنی کو تقریباً 932 کروڑ روپے کا ستارہ پنڈھر پور ہائی وے کا کام ملا۔

جینت پاٹل نے اس کمپنی کے بابت تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس کمپنی نے کھٹاؤ تعلقہ میں 5000 براس معدنیات نکالنے کی اجازت طلب کی، لیکن اس نے 2 لاکھ 45 ہزار براس معدنیات کی کان کنی کی۔ اس کمپنی پر کھٹاؤ کے تحصیلدار نے تقریباً 105 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا۔ حکومت نے بھی تحصیلدار کے حکم کی توثیق کی کہ یہ جرمانہ قانون کے مطابق اور درست ہے۔ مگر کمپنی نے تحصیلدار کے حکم کے خلاف ستارا کے کلکٹر کے پاس اپیل کی۔ ستارا کے کلکٹر نے معاملے کی سماعت کیا اور قانون کے خلاف فیصلہ کیا۔

جینت پاٹل نے مزید کہا کہ متعلقہ کمپنی کی جانب سے جمع کرائے گئے حلف نامہ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ڈرون سروے سے معلوم ہوا ہے کہ 1 لاکھ 85 ہزار معدنیات کی کان کنی کی گئی تھی۔ اس کے باوجود کلکٹر نے کمپنی پر تحصیلدار کی جانب سے عائد جرمانہ معاف کر دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس معاملے میں اس وقت کے ستارا کے کلکٹر نے ذاتی دلچسپی لی؟ ایسے غیر قانونی احکامات پاس کرنے سے کسے فائدہ حاصل ہوا؟ جینت پاٹل نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس سلسلے میں تحقیقات کا حکم دے۔

جینت پاٹل نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ارون اجبے نامی ایک کارکن ڈویژنل کمشنر آفس پونے میں گزشتہ آٹھ دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ حکومت نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ گزشتہ سال سے وہ اس معاملے پر کارروائی کرنے کے لیے ڈویژنل کمشنر کے دفتر میں پیروی کر رہے ہیں۔

2661 کروڑ کی پونے رنگ روڈ اور 14400 کروڑ کی تھانے بوریولی دوہرے ٹنل کی تعمیر کا کام اس کمپنی کو دیا گیا ہے۔ جینت پاٹل نے کہا کہ اس کمپنی اور اس جیسی دیگر کمنپیوں کو بلیک لسٹ میں ڈالا جائے نیز اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading