رمضان المبارک میں مساجد میں نماز وتراویح کی سہولت دی جائے: نسیم خان

ممبئی: ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر وسابق وزیر نسیم خان نے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان المبارک میں مساجد میں نمازوتراویح کی سہولت دی جائے۔ یہ مطالبہ انہوں نے وزیرمحصول بالاصاحب تھورات اور وزیرصحت راجیش ٹوپے سے ملاقات کے دوران کیا ہے۔ واضح ہوکہ کورونا کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر ریاستی حکومت کے احتیاطی تدابیر میں عبادت گاہوں میں عوام کے جمع ہونے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ لیکن چونکہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اورحکومتی پابندی کی وجہ سے مساجد میں نماز وتراویح بھی متاثر ہوگی اس لیے مسلمانوں میں اس پابندی کے خلاف سخت بے چینی پائی جارہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شہر کے سرکردہ علماء کرام وملی تنظیموں کے رہنماؤں نے نسیم خان سے اس معاملے میں حکومت سے سہولت دیئے جانے کے لیے ملاقات کی تھی جس کے بعد نسیم خان نے وزیرمحصول ووزیرصحت سے ملاقات کی اور مذکورہ مطالبہ کیا ہے۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ کورونا کی وبا نے ایک بارپھر سنگین صورت اختیار کرلی ہے جس پر قابو پانے کے لیے ویکسینیشن کے علاوہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بھی ناگزیر ہے۔ حکومت نے احتیاطی تدابیر کے لیے جو ہدایات جاری کی ہیں ان میں عبادت گاہوں میں لوگوں کے جمع ہونے پر بھی پابندی ہے۔ لیکن رمضان المبارک بس شروع ہونے والا ہے ایسے میں مساجد کوبھی اس پابندی کے زمرے میں شامل رکھنا مسلمانوں میں سخت بے چینی وناراضگی کا سبب بنا ہواہے۔ ملی تنظیموں وسرکردہ علماء کرام سے بات کرنے کے بعد میں نے حکومت سے اس معاملے میں سہولت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ نسیم خان نے کہا کہ کورونا کی وبا کوروکنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، مگر مساجد پر عائد اس پابندی میں تھوڑی رعایت دے کر بھی اس وبا پر قابو پایاجاسکتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ رمضان المبارک کے پیشِ نظر حکومت مساجد میں نمازوتراویح کے لیے سہولت دے۔