ممبئی: کنگناراناؤت کی بے تکی بیان بازی کے خلاف پورے ملک میں ناراضگی پائی جارہی ہے اور اس پرکارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ کانگریس کے ریاستی کارگزار صدر محمد عارف (نسیم)خان نے بھی اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کنگاراناؤت کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کرے۔
نسیم خان نے ساکی ناکہ پولیس اسٹیشن میں کنگناراناؤت کے خلاف کارروائی کا تحریری مطالبہ دینے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ کنگنا راناؤت جیسی بیہودہ شخصیت نے یہ کہہ کر لاکھوں مجاہدین ِآزادی کی توہین کی ہے کہ ’’1947 میں ملی آزادی بھیک میں ملی تھی اوراصلی آزادی 2014 میں ملی ہے‘‘۔ اس طرح کا بیان دینے پر اس پر غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی اور ملک کو انگریزوں کے جابرانہ راج سے آزاد کرانے کے لیے لاکھوں بہادروں اورمجاہدین آزادی نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر، نیتا جی سبھاش چندر بھوش، شہید بھگت سنگھ، راج گرو، پنڈت جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل، مولانا ابوالکلام آزاد اور بہت سے دوسرے لوگوں نے اس آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ لاکھوں مجاہدین آزادی کو گولی مار دی گئی۔انہوں نے اپنی جانیں دیدیں لیکن آزادی کے اپنے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ان تمام قربانیوں کے نتیجے میں ہمیں 15 اگست 1947 کو آزادی ملی اور اس کے بعدپنڈت جواہر لعل نہرو اورڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے بنائے گئے آئین کی وجہ سے ہندوستان دنیا میں ایک طاقتور ملک بن کر ابھرا۔لیکن کنگنا کی نظرمیں ان قربانیوں اور اور اس آزادی کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔
نسیم خان نے کہا کہ کنگنا راناؤت کا ایک عوامی پروگرام میں دیا گیا بیان صدفیصد ملک سے غداری پرمبنی ہے۔ نسیم خان نے کنگنا راناؤت کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے اور ملک مخالف بیانات دینے پر اس پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسے جو پدم شری ایوارڈدیا گیا ہے اسے فورا واپس لیا جائے۔ کنگناراناؤت کے خلاف کارروائی کے اس مطالبے کے موقع پر شمالی وسطی ممبئی کے ضلع صدر جگدیش امین، ممبئی کانگریس کے نائب صدر محمد شریف خان، جنرل سکریٹری پربھاکر جاؤکر، شعبہ خواتین کی تعلقہ صدر مایا کھوت، تعلقہ کے تمام عہدیدار، بلاک صدر، ورکنگ صدر، عہدیداران و کارکنان موجود تھے۔