کسانوں کی امداد کے لیے حکومت کے پاس کوئی واضح منصوبہ نہیں
مرکزی وزیر داخلہ کے دورے سے قبل ہی ریلیف پیکیج کا اعلان ہونا چاہیے تھا: ہرش وردھن سپکال
اکولہ: مہاراشٹر کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ ریاست کے کسان شدید بحران سے دوچار ہیں، لیکن بی جے پی اور اس کی اتحادی حکومت ان کے مسائل کے حل کے لیے قطعی بے حس نظر آرہی ہے۔ اگر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ واقعی ریاست کی صورتحال سے باخبر ہیں تو انہیں اپنے مہاراشٹر دورے سے قبل ہی کسانوں کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کر دینا چاہیے تھا۔ کسانوں کی فصلیں اور زمینیں تباہ ہو چکی ہیں، اس کے باوجود حکومت ’پروپوزل بھیجنے‘ کی آڑ میں صرف وقت ضائع کر رہی ہے۔
اکولہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مہاراشٹر کی حکومت کے بیشتر فیصلے دراصل امیت شاہ ہی کرتے ہیں، جو درحقیقت ریاست کے ’سپر وزیراعلیٰ‘ بن چکے ہیں۔ اگر ان کی نیت میں خلوص ہوتا تو احمد نگر کے پروگرام میں ہی کسانوں کے لیے امداد کا اعلان کیا جا سکتا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وزیراعلیٰ دہلی ضرور گئے، مگر کسانوں کے لیے ریلیف اسکیم کے بجائے وہ ’سورج گڑھ کی کانوں سے حاصل ہونے والی کمائی‘ کے معاملات طے کرنے گئے تھے اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کسانوں کے لیے کچھ بھی حاصل کیے بغیر واپس لوٹ آئے۔
راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے کے ساتھ سیاسی اتحاد کے امکان پر تبصرہ کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی آمرانہ پالیسیوں کے خلاف ہی ’مہا وکاس اگھاڑی‘ اور ’انڈیا اتحاد‘ تشکیل دیا گیا تھا۔ ان کا مقصد نریندر مودی اور بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھ کر ملک کو دستور کے مطابق چلانا ہے۔ سپکال نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں اتحاد سے متعلق فیصلہ مقامی سطح پر کیا جائے گا اور تنظیمی قیادت نے یہ اختیار ضلعی اکائیوں کو دے دیا ہے۔
امراؤتی ڈویژن کے اکولہ، واشم، بلڈھانہ، ایوت محل اور امراؤتی اضلاع میں کانگریس کی تنظیمی جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری، تنظیم کو مضبوط کرنے اور دیگر سیاسی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر واشم کے ضلعی صدر اور رکن اسمبلی امیت جھنک، رکن اسمبلی ساجد خان پٹھان، سابق وزیر سنیل دیشمکھ، صوبائی نائب صدر (تنظیم و انتظامیہ) ایڈوکیٹ گنیش پاٹل، نائب صدر سندھیا سوالاکھے، کشور کانہرے، دلیپ سرنائک، ڈاکٹر ذیشان حسین، ہدایت پٹیل، صوبائی جنرل سکریٹری مہیش گنگنے اور سابق رکن اسمبلی ببن چودھری سمیت کئی اہم عہدیدار موجود تھے۔
اسی دوران نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے متعدد عہدیداروں اور کارکنوں نے بھی کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ پاتور میونسپل کونسل کے سابق صدر حمایت خان اپنے سیکڑوں ساتھیوں کے ہمراہ کانگریس میں شامل ہوئے۔ اس موقع پر این سی پی پاتور شہر کے صدر شاکر حسین عرف گڈو پہلوان، مہتاب رؤف، انیک بھائی پٹیل، حسام الدین عرف منّا میڈیکل، شارق شبیر، نعیم یاسین، رفیق بھائی، راہل واگھمارے سمیت متعدد بلدیاتی اراکین اور گرام پنچایت کے نمائندے بھی کانگریس میں شامل ہوئے۔ ہرش وردھن سپکال نے تمام نئے ارکان کا پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کی آواز بن کر حکومت کی بے حسی کے خلاف میدان میں ڈٹی رہے گی۔
راہل گاندھی کے خلاف منوج جراںگے کا بیان قابلِ مذمت ہے
انہیں بات کرتے وقت شائستگی کا خیال رکھنا چاہیے: سچن ساونت
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کے سینئر ترجمان سچن ساونت نے منوج جراںگے کی جانب سے کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے خلاف دیئے گیے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ساونت نے کہا کہ منوج جراںگے نے جو الفاظ استعمال کیے وہ انتہائی قابلِ مذمت اور غیر مہذب ہیں۔ وہ مراٹھا سماج کی قیادت کرتے ہیں، اس لیے ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسی زبان استعمال نہ کریں جو خود مراٹھا سماج کی بدنامی کا باعث بنے۔ جراںگے کی باتوں سے مراٹھا سماج کی نیک نامی کو دھچکا پہنچا ہے، لہٰذا انہیں اپنے طرزِ بیان میں احتیاط کرنی چاہیے اور اس جدوجہد کو ذاتی یا نچلی سطح پر نہیں لانا چاہیے۔
راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی پر جراںگے کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ اگرچہ منوج جراںگے نے راہل گاندھی کے خلاف نچلے درجے کی زبان استعمال کی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ راہل گاندھی ہی وہ لیڈر ہیں جنہوں نے ذات پر مبنی مردم شماری کے حق میں آواز بلند کی اور اعلان کیا کہ جب کانگریس دوبارہ اقتدار میں آئے گی تو ریزرویشن کی 50 فیصد حد ختم کر دی جائے گی۔
ساونت نے کہا کہ یہی اقدام اس مسئلے کا حل ہے کہ کسی ذات کو نقصان پہنچائے بغیر اور کسی طبقے کو مشتعل کیے بغیر مراٹھا سماج کو انصاف مل سکے۔ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ آئینی دائرے میں رہ کر مراٹھا سماج کو ریزرویشن دینے کی حمایت کی ہے اور کسی دوسرے طبقے پر زیادتی کیے بغیر ان کے لیے راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے۔
سچن ساونت نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی دستور اور جمہوری اصولوں کی پاسدار ہے۔ ہر شہری کو سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں پر تنقید کا حق ہے، لیکن یہ تنقید دستوری حدود، تہذیب اور شائستگی کے دائرے میں رہنی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مراٹھا سماج کی خواتین نے 58 پُرامن اور شاندار مورچے نکال کر ملک کے سامنے ایک مثالی مثال قائم کی ہے، اس روایت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ریزرویشن کے لیے جدوجہد صرف حقوق حاصل کرنے کی نہیں بلکہ معاشرے کے سامنے ایک مثبت مثال پیش کرنے کی بھی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جراںگے کی حالیہ زبان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تحریک اب سیاسی رنگ اختیار کر رہی ہے، حالانکہ ماضی میں یہ خالص سماجی تحریک تھی۔
سچن ساونت نے واضح کیا کہ کانگریس ایک عوامی پارٹی ہے جو کسی ایک ذات یا مذہب کی نہیں بلکہ تمام شہریوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ پارٹی کا نظریہ یہی ہے کہ کسی پر بھی ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے نظریاتی لغت میں جملہ بازی، عوام کو دھوکہ دینا، فرضی سرکاری فیصلے یا جھوٹے گزٹ جیسے ہتھکنڈے شامل نہیں ہیں۔ کانگریس جو کچھ کرتی ہے، وہ عوامی خدمت کے جذبے اور دستور کے دائرے میں رہ کر کرتی ہے، اور یہی اس کی اصل پہچان ہے۔