مودی حکومت نے مالکوں کے مفاد میں قانون بناکر ملازمین کے حقوق کو ختم کردیا: صنعتکار دوستوں کو 10 لاکھ کروڑ روپے کی قرض معافی لیکن مزدور بنیادی ضرورت سے بھی محروم

17

ممبئی: آزادی کے بعد ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے پوری قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے مفادات اور حقوق کا بھی پورا خیال رکھا۔کانگریس نے مزدوروں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ان کی مدد سے ہندوستان کو ایک طاقتور ملک بنایا۔ کانگریس حکومت نے مزدوروں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے کئی قانون بنائے کیے لیکن مرکز کی مودی حکومت نے مالکوں کے مفاد کا قانون لا کر مزدوروں کے حقوق اور مفادات کو ختم کرنے کا کام کیا ہے۔ بی جے پی حکومت پر یہ زوردار حملہ کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔ وہ کل پنویل میں انٹک کے ریاستی سطح کے جلسے سے خطاب کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے کے قانون میں مزدوروں کو مختلف مراعات، حقوق اور اختیارات دیئے گئے تھے لیکن اب ان میں کافی حد تک تبدیل کردیا گیا ہے۔نئے قانون میں مزدوروں کو صنعت کاروں کا غلام بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس قانون نے سب کچھ مالکوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی سال 2014 میں ڈھیر سارے وعدے کرکے اقتدار میں آئے،جس میں ہر سال 2 کروڑ لوگوں کو نوکریاں دینے کے علاوہ ایک ملک ایک ٹیکس اور سب کے بینک اکاؤنٹس میں 15 لاکھ روپے جمع کرانے کے وعدے تھے۔ اس کے علاوہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ ان وعدوں کی بنیاد پر ملک کی عوام نے بی جے پی کو اکثریت کے ساتھ اقتدار دیا ہے لیکن اقتدار میں آتے ہی پی ایم مودی نے میڈیا کو اپنی گرفت میں لے کر جمہوریت کے چوتھے ستون کو تباہ کردیا۔انتظامیہ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ عدلیہ بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔ بی جے پی

حکومت نے کسانوں کو الگ تھلگ کرنے کے لیے تین سیاہ قوانین لانے کا منصوبہ بنایا، لیکن کانگریس نے اس کے خلاف ملک بھر میں زوردار آواز اٹھائی۔ کسانوں کی تحریک کی حمایت کی اور آخر کار مودی حکومت کو وہ سیاہ قوانین واپس لینے پر مجبور کردیا۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مودی حکومت نے ملک کے اہم سرکاری پروجیکٹ کو چند صنعتکار دوستوں کے حوالے کرنے کی تمام تیاریاں کر لی ہے۔ نجکاری کی اس پالیسی سے مزدوروں کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ جس کی وجہ سے بی جے پی اور مرکزی حکومت کے خلاف ملک کے کارکنوں میں زبردست بے اطمینانی ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ مزدور محنت سے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں لیکن انہیں مضبوط بنانے کے بجائے مرکز کی مودی حکومت صنعت کاروں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ مودی حکومت نے اپنے صنعتکار دوستوں کا 10.50 لاکھ کروڑ روپے کا قرض معاف کر دیا اور مزدوروں کے مفادات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ مزدوروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بی جے پی کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ 2014 سے ملک کے حالات تبدیل کرچکے ہیں۔ اس سے پہلے حکومت آئینی بنیادوں پر چلائی جا رہی تھی لیکن مرکز میں بی جے پی کی حکومت آتے ہی پورا نظام تبدیل ہو گیا ہے۔ اس آمریت کے خلاف آواز بلندکرنے کے لیے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ’بھارت جوڑو یاترا‘کی شرعات کی ہے۔ راہل گاندھی نے تمام مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر ملک کی جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے 3500 کلومیٹر کی پیدل سفر کا آغاز کیا ہے۔ پٹولے نے کہا کہ ملک میں مزدوروں کی طاقت بہت بڑی ہے اور انٹک ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح

پابند عہد ہے۔ اس تنظیم کا نیٹ ورک ہر جگہ ہے اور کانگریس پارٹی مزدوروں کے پیچھے مضبوطی سے کھڑی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ مرکز اور مہاراشٹر میں کانگریس کی حکومت آئے گی اور اس کے بعد ہم سب مل کر مزدوروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے نئے سرے سے کام شروع کریں گے۔