بی جے پی نے کسانوں کے بجلی بل معاف کرنے کا اعلان کیا، پھر بھی بل کیوں بھیجا جا رہا ہے؟
کمبھ میلے میں عقیدت مندوں کی اموات کا ذمہ دار کون؟ موہن بھاگوت، مودی-یوگی کا استعفیٰ کیوں نہیں مانگتے؟
ممبئی/ناگپور: ریاستی وزیر برائے خوراک و شہری رسد دھننجے منڈے پر مسلسل سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، لیکن مہاراشٹر کابینہ میں صرف دھننجے منڈے یا سنجے راٹھوڑ ہی نہیں بلکہ 65 فیصد وزراء ایسے ہیں جن پر مختلف جرائم کے مقدمات درج ہیں۔ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی خود کو ’پارٹی وِد ڈیفرینس‘ کہتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ان تمام داغدار اور فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے والے بدنام وزراء کو کابینہ سے برطرف کرے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔
ناگپور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بیڑ ضلع کے مساجوگ کے سرپنچ سنتوش دیشمکھ اور پربھنی کے نوجوان سومناتھ سوریہ ونشی کی پولیس تشدد میں ہلاکتیں انتہائی افسوسناک ہیں۔ ان دونوں واقعات کے مجرموں کو ایسی سخت سزا دی جانی چاہیے کہ آئندہ ریاست میں اس طرح کے واقعات نہ ہوں، لیکن حکومت اس معاملے میں سنجیدہ مؤقف اختیار کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔ مہاراشٹر میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت دراصل مجرموں کی سرپرستی کرنے والی حکومت ہے، جہاں کئی وزراء پر سنگین مقدمات درج ہیں۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خود احتسابی کرنی چاہیے اور ریاست کی شبیہ خراب کرنے والے وزراء کو کابینہ سے باہر نکال دینا چاہیے، ایسا کہنا نانا پٹولے کا تھا۔
کسان بے حال، حکومت بے پرواہ
ریاست میں بی جے پی حکومت عیش کر رہی ہے جبکہ عوام فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ زرعی اجناس کی مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث کسان شدید پریشان ہیں۔ سویابین، دھان، پیاز اور کپاس سمیت کسی بھی فصل کو مناسب قیمت نہ ملنے سے کسان تباہ ہو چکے ہیں اور روزانہ خودکشی کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ حکومت نے کسانوں کے بجلی بل معاف کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کے باوجود کسانوں کو بجلی کے بل بھیجے جا رہے ہیں۔ بجلی کے نرخ بڑھا دیے گئے ہیں، ایس ٹی بسوں کے کرائے میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ ریاست میں 24 لاکھ طلبہ نوکریوں کے لیے درخواستیں دے چکے ہیں، لیکن انہیں ملازمتیں نہیں مل رہیں۔ مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن حکومت ان مسائل پر توجہ دینے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کانگریس عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے حکومت کو جوابدہ بنائے گی، نانا پٹولے نے یہ اعلان بھی کیا۔
کمبھ میلے میں عقیدت مندوں کی ہلاکتوں پر آر ایس ایس خاموش کیوں؟
پریاگ راج میں مہا کمبھ میلہ جاری ہے، جو عوام کے عقیدے، جذبات اور عقیدت کا مرکز ہے، لیکن بی جے پی حکومت نے اسے بھی ایک ایونٹ میں تبدیل کر دیا ہے۔ وی آئی پی کلچر کے نام پر وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بڑے بڑے بینرز لگائے گئے ہیں۔ اس دوران بھگدڑ مچنے کے باعث کئی عقیدت مندوں کی جانیں چلی گئیں، لیکن بی جے پی حکومت نے کووڈ-19 کے دوران اموات چھپانے کی طرح اب بھی مرنے والوں کی اصل تعداد کو چھپانے کی پالیسی اپنائی ہے اور صحیح معلومات منظر عام پر نہیں آنے دی جا رہیں۔ شَنکر آچاریہ نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن آر ایس ایس اور سرسنگھ چالک موہن بھاگوت اس پر خاموش کیوں ہیں؟ انہوں نے مودی-یوگی کے استعفے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا؟ نانا پٹولے نے یہ تلخ سوال اٹھایا۔