بھارت جوڑویاترا کو کامیاب بنانے والوں کا بہت بہت شکریہ!

9

ریاستی کانگریس کے صدر ناناپٹولے وبھارت جوڑو یاترا کے کنوینر بالاصاحب تھورات کا مکتوب

ممبئی:کانگریس کے ممبرپارلیمنٹ راہل گاندھی کی قیادت میں بھارت جوڑو یاترا کو مہاراشٹر میں کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بہت سے لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ اس تاریخی یاترا کو کامیاب بنانے کے لیے مہاراشٹر کے عوام، کانگریس کارکنان، عہدیداران اور لیڈروں نے 14 دن تک زبردست تعاون دیا۔ راہل گاندھی کے ساتھ چلتے ہوئے انہوں نے اپنے مسائل، دکھ درد بتائے اور راہل گاندھی نے بھی ان کی بات سنی۔ بھارت یاتریوں کی مہمان نوازی میں بھی ہم کہیں کمزور نہیں ہوئے۔اس یاترا کو کامیاب کرتے ہوئے ملک کو ایک پیغام دینے میں آپ تمام لوگوں کا ہمیں زبردست تعاون حاصل ہوا، اس لیے ہم ان تمام لوگوں کوتہ دل سے شکرگزا رہیں۔ یہ باتیں مہاراشٹر کانگریس کے صدر ناناپٹولے ومہاراشٹر میں بھارت جوڑویاترا کے کنوینر بالاصاحب تھورات نے عوام کے نام اپن ایک مکتوب میں کہی ہیں۔

اپنے مکتوب میں نانا پٹولے اور بالاصاحب تھورات نے کہا ہے کہ ہم ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے بھارت جوڑو یاترا کو کامیاب بنایا۔ممبرپارلیمنٹ راہل گاندھی کی قیادت میں بھارت جوڑو یاترا 7 ستمبر کو کنیا کماری سے شروع ہوئی اور دو ماہ بعد 7 نومبر کو پد یاترا ناندیڑ ضلع کے دیگلور سے مہاراشٹر میں داخل ہوئی۔ دیگلور شہر میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے عظیم الشان مجسمہ کے سامنے ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں چھترپتی شیواجی مہاراج اور عظیم شخصیات کی خدمت میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے راہل گاندھی اور دیگربھارت یاتریوں نے ہزاروں مشعلیں ہاتھوں میں لے کر انقلااب کی شمع روشن کیں۔مندروں، مسجدوں، بدھ وہاروں اور گورودواروں میں جا کر ہم نے تنوع میں اتحاد کا مشاہدہ کیا جو ہندوستان کی اصل شناخت ہے۔ مہاراشٹر میں پد یاترا کا یہ سفر دیگلور سے شروع ہوا اور بلڈھانہ ضلع کے جلگاؤں جامود میں ختم ہوا۔ 14 دنوں کے اس سفر میں ہر روز ہزاروں لوگ سڑک کے دونوں طرف جمع ہوتے تھے اور راہل گاندھی اور بھارت یاتریوں کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے۔ صبح سویرے ہماری مائیں وبہنیں یاترا کے راستوں پر رنگولیاں بنا کر یاترا کا استقبال کرتی تھیں۔ اس راستوں پر مہاراشٹر کی مختلف ثقافتیں نظر آئیں۔ لوگ بے ساختہ آئے اور بھارت جوڑو یاترا میں حصہ لیا۔ ناندیڑ اور شیگاؤں میں ہوئے جلسوں نے بھیڑ کے تمام ریکارڈتوڑ دیئے۔ خاص طور پر شیگاؤں میں جمع ہونے والے لاکھوں لوگوں نے تبدیلی کا اشارہ دیا۔ جلسہ گاہ کھچا کھچ بھرا ہوا تا تھا ہی لیکن جلسہ گاہ کے باہر بھی بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ یہ صرف ایک جلسے کا ہجوم نہیں تھا بلکہ لوگوں نے ایک اہم تاریخ ساز واقعہ کا حصہ بنے۔

مہاراشٹر نے راہل گاندھی کے ساتھ چلنے والے تمام بھارت یاتریوں کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ منظم طریقے سے روزانہ ہزاروں لوگوں کی رہائش، طعام، آرام و ادویات کا خاص خیال رکھا۔ آپ نے تمام نے کھلے دل اور کھلے ہاتھوں خدمت میں بھرپور حصہ لیا۔ اس کے لیے ہزاروں لوگوں نے سخت محنت کی، سڑکوں پر کھڑے ہو کر بھارت یاتریوں کو پھل، پانی اور چائے پیش کی۔ یہ سوچ کر کہ بھارت جوڑو یاترا ہمارے اپنے ہی گھر کی یاترا ہے، ہزاروں جانے انجانے ہاتھوں نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔مہاراشٹر میں ’اتیتھی دیو بھوو‘ کی عظیم روایت ہے۔ پنڈھرپور کے وٹھل کی زیارت کرنے کے لیے جس طرح ہرسال پالکیاں نکلتی ہیں اسی جذبے کا مظاہرہ ہمیں اس پدیاترا میں بھی ہوا۔ دراصل یہی مہاراشٹر کی ثقافت اور روایت ہے۔ ہم نے بھارت یاتریوں کی مہمان نوازی کو ایک لمحے کے لیے بھی کوئی کوتاہی نہیں ہونے دی۔ بھارت جوڑو یاترا کے اس عظیم انعقاد میں سبھی نے اپنا کردار ادا کیا۔مہاراشٹر نے بھارت جوڑو یاترا کے ذریعے ملک کو پیغام دیا ہے۔ اس پدا یاترا کو کامیاب بنانے میں مہاراشٹر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سے لوگوں نے ہمیں تعاون کیا ہے۔ان تمام کا تہہ دل سے شکریہ۔

نانا پٹولے(صدرمہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی)،بالا صاحب تھورات (بھارت جوڑو یاترا مہاراشٹر کو آرڈینیٹر)