• 425
    Shares

ملک کی یکجہتی واتحاد کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کانگریس کھڑی رہے گی: ناناپٹولے

گنگا میں ہندوؤں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والوں کو ہندوؤں کا نام لینے کا کوئی حق نہیں: بالاصاحب تھورات

ملک کی تاریخ کو مسخ کرنے والی طاقتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکئے: اشوک چوہان

ناندیڑ میں ’ویئرتھ نہ ہوبیلدان، چلوبچائیں سنویدھان‘ مہم کے تحت ناندیڑ میں کانگریس کے لیڈران کا خطاب

ممبئی:ملک کو جو آزادی ملی ہے وہ آسانی سے نہیں بلکہ بڑی مشکلوں سے حاصل ہوئی ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ کانگریس پارٹی نے اس تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مہاراشٹر ہمیشہ ملک کی رہنمائی کرنے والی ریاست رہی ہے اور یہیں پر تحریک آزادی میں بھی’ہندوستان چھوڑو‘ سمیت کئی اہم تحریکیں شروع ہوئیں۔ مہاراشٹر نے ملک کی آزادی کی تحریک میں بہت بڑاکردار نبھایا ہے۔یہ باتیں مہاراشٹرکانگریس کے نگراں ایچ کے پاٹل نے کہی ہیں۔ وہ ناندیڑ میں آزادی کی گولڈن جوبلی کے موقع پرریاستی کانگریس کی جانب سے شروع کی گئی مہم ’ویئرتھ نہ ہوبلیدان، چلو بچائیں سنویدھان‘ (رائیگاں نہ جائے قربانی، آئیے آئین کو بچائیں) کے تحت منعقدہ پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔

اس پروگرام میں ریاستی کانگریس کے انچارج کے علاوہ ریاستی صدر ناناپٹولے، وزیرمحصول بالاصاحب تھورات، وزیرتعمیرات اشوک چوہان، امداد وبازآبادکاری کے وزیر وجئے ویڈیٹی وار، وزیرماہی گیری اسلم شیخ، وزیرتعلیم ورشا گائیکواڑ،وزیر طبی تعلیم امیت دیشمکھ، ریاستی کارگزارصدر شیواجی راؤ موگھے، چندرکانت ہنڈورے، سابق وزیر ڈی پی ساونت، ناندیڑ شہر کانگریس کے صدر ایم ایل الے امر راجورکر، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری بی ایم سندیپ، سمپت کمار، ریاستی سکریٹری ومہم کے کنوینر ونائیک دیشمکھ وابھئے چھاجیڈ، ناندیڑ ضلع کانگریس کمیٹی کے صدرگووندراؤ ناگولی وغیرہ موجود تھے۔

اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ جن لوگوں کی تحریک آزادی میں کوئی حصہ داری نہیں تھی انہوں نے مذہب کے نام پر ملک بنانے کی کوشش کی۔ جو ممالک مذہب کی بنیاد پر قائم ہوئے وہاں جمہوریت نہیں پنپ سکی۔ اگر ہندوستان بھی مذہب کے نام پرقائم ہوا ہوتا تو آج ہمارے ملک کے حالات مختلف ہوتے۔ مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کی کوششوں سے ملک میں جمہوری نظام قائم ہوااور آج ہم یہ دن دیکھ رہے ہیں۔ اس آزادی کو صرف اور صرف کانگریس ہی بچا سکتی ہے اوراب وقت آگیا ہے کہ جولوگ مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہیں، انہیں ان کی حیثیت یاد دلائی جائے۔ملک کی یکجہتی واتحاد کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کانگریس پارٹی ہمیشہ کھڑی رہی ہے اور کھڑی رہے گی۔ کانگریس سب کو ساتھ لے کر چلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اگر ملک غلط ہاتھوں میں چلا جائے تو کیا ہوتا ہے۔ 2014 میں نریندر مودی نے ایوت محل میں ہی کسانوں کو قرض معافی کا یقین دلایا تھا۔ لوگوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا لیکن جب مودی اقتدار میں آئے تو بی جے پی نے کہا کہ کسانوں سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ ایک انتخابی جملہ تھا۔ جبکہ دوسری جانب یہی مودی حکومت بڑے بڑے سرمایہ کاروں کے قرضے معاف کررہی ہے۔

قانون ساز کونسل میں پارٹی کے رہنما اور وزیر محصولات بالا صاحب تھورات نے کہا کہ آج کا دن ان لوگوں کو یاد کرنے کا دن ہے جنہوں نے ملک کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ ان کی قربانی کی وجہ سے ہی ہم یہ آزادی کا یہ دن دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس وقت ملک کے حالات مختلف ہیں۔ اگر کوئی حکومت کے خلاف بولتا ہے تو اس پرغداری کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے، ای ڈی کی کارروائی کی جاتی ہے۔ ای ڈی کا نام اس سے قبل کبھی اس قدر چرچے میں نہیں تھالیکن پچھلے کچھ سالوں میں ای ڈی بہت مشہور ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت جمہوریت اور آئین کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ملک میں کسان 10 ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں اور مرکزی حکومت اس کی معمولی نوٹس تک نہیں لے رہی ہے۔ کورونا کے دور میں سیکڑوں لاشیں دریائے گنگا میں تیر رہی تھیں۔ جولوگ ہندووں کانام لے کر لوگوں کا ووٹ حاصل کیے اور اقتدار میں آئے انہیں ہندوؤں کا نام لینے کا کوئی حق نہیں۔

وزیر برائے تعمیرات عامہ اشوک چوہان نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی قیادت میں ملک میں ایک بڑی آزادی کی تحریک شروع ہوئی جس سے ملک کو آزادی ملی۔ اس کے لیے بہت جدوجہد ہوئی۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس جدوجہد کو، اس قربانی کو یاد کیا جائے۔ اس آزادی کے لیے دی گئی قربانیاں ہمیں رائیگاں نہیں جانے دینی ہیں۔آزادی کی گولڈن جوبلی کی سال میں ہمیں اس پروقار آزادی کا تحفظ کرنا ہے۔ اگر کوئی آزادی کے اس وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سبق سکھایا جانا چاہئے۔کانگریس کا ایجنڈا ملک کے آئین کا تحفظ وترقی کا ہے لیکن آج آئین اور ملک کی تاریخ کومسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسی طاقتوں کو ہمیں بیخ کنی کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عدم تشدد کی راہ پر چلنے والے مہاتماگاندھی کو قتل کرنے والے گوڈسے کی نظریات کی کچھ لوگ تعریفیں کرتے ہیں جو ملک کے لئے انتہائی نقصاندہ ہے۔اشوک چوہان نے کہا کہ ملک میں فی الوقت آزادی اظہار کوکچلا جارہا ہے، ملک کے شہریو ں کی جاسوسی کی جارہی ہے، جمہوریت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھا جارہا ہے، ان سب کے خلاف ہم تمام کومتحد ہونا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس ایسا ایک بھی لیڈر نہیں ہے جس نے ملک کی آزادی میں حصہ لیا ہو۔ ان کے پاس تحریک آزادی میں حصہ داری کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ محض ولبھ بھائی پٹیل کی بلندمجسمہ بنانے سے کام نہیں چلے گا، ان کے خیالات کی بلندی تک پہنچنا ہوگا۔ اس پروگرام میں وزیرطبی تعلیم امیت دیشمکھ، وزیرتعلیم ورشا گائیکواڑ، وزیرٹیکسٹائیل وماہی گیری اسلم شیخ نے بھی بی جے پی کی منافرت کی سیاست پر سخت تنقیدیں کیں۔ اس موقع پر تحریک آزادی مجاہدین وان کے اہلِ خانہ کا اعزازاکرام کیاگیا۔ اس پروگرام میں لاتور، پربھنی، ہنگولی وناندیڑ کے کانگریسی عہدیدران موجود تھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔