عدلیہ کی آزادی کو کس کے اشارے پر خطرے میں ڈالا جارہا ہے؟: ناناپٹولے
جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے عدلیہ کی آزادی وتقدس کا تحفظ ضروری
ممبئی: جمہوری نظام میں عدلیہ کونہایت اہم اور آزاد مقام حاصل ہے۔ ملک کی عوام کا اب بھی عدلیہ پر اعتماد ہے لیکن عدلیہ کے کام کاج میں بڑھتی ہوئی مداخلت تشویش کا باعث ہے جس سے اس کی آزادی کو خطرہ لاحق ہوگیاہے۔ جمہوریت کے لیے یہ انتہائی سنگین ہے۔ آخر عدلیہ کی آزادی کوکس کے اشارے پر خطرے میں ڈالا جارہا ہے؟یہ سوال مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے آج یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ججوں کی تقرری کے حوالے سے کالجیم کی سفارش پر سرکارکی جانب سے معلومات دیئے جانے سے قبل ہی کچھ نیوزچینلوں کے ذریعے دی گئی خبر پر چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کی جانب سے فکرمندی کا اظہار نہایت سنگین ہے۔ عدلیہ کا یہ اندرونی معاملہ ہونے کے باوجوداس ضمن میں بے بنیاد خبریں گڑھنے کا کام دراصل عدلیہ کے کام کاج میں مداخلت ہے۔ اس طرح کی مداخلت عدلیہ کی تقدس، آزادی اور ساکھ کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کس کے اشارے پر ہورہا ہے؟ یہ عدلیہ اور جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے بعض میڈیا اداروں کی جانب سے ایسی خبروں کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر تشویش کے اظہار غوروفکر کیا جانا چاہئے۔
ناناپٹولے نے کہا کہ جمہوریت کے چار ستونوں میں سے عدلیہ ایک اہم ستون ہے، لیکن پچھلے کچھ سالوں سے عدلیہ کے کام کاج میں نہایت تیزی سے مداخلت ہو رہی ہے۔ تین سال پہلے سپریم کورٹ کے چار ججوں نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ کے کام کاج میں مداخلت اور بے قاعدگیوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیاتھا۔ حال ہی میں سامنے آنے والے پیگاسس جاسوسی کیس میں بھی یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایک خاتون جس نے ریٹائرڈ چیف جسٹس رنجن گوگوئی پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا گیا تھا، اس کے اور اس کے کچھ رشتہ داروں کے فون نمبر جن ٹیپ کیے گئے تھے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے جمہوریت کے چاروں ستونوں کو مضبوط اور مستحکم رہنا چاہئے جبکہ انہیں نقصان پہونچایا جارہا ہے جو باعثِ تشویش ہے۔ اس پپر روک لگنی چاہئے۔