بی جے پی ڈائن بن چکی ہے، وہ دوسری پارٹیوں کے لیڈروں کو نگلنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے: ہرش وردھن سپکال
شراب کے لائسنس مخصوص کمپنیوں کو دینے کے پیچھے پونے کے سرپرست وزیر کا ہاتھ، مفاد کے ٹکراؤ کے سبب ان سے محصول محکمہ واپس لیا جائے
پونے/ممبئی: بی جے پی ڈائن بن چکی ہے، وہ دوسری پارٹیوں کے لیڈروں کو نگلنے کی کوششوں میں لگی رہتی ہے۔ یہ سخت بیان مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے دیا ہے۔ پونے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی خود کو 56 انچ کی چھاتی والے لیڈر کی قیادت میں سب سے بڑی پارٹی قرار دیتی ہے، مگر اس کا یہ دعویٰ بالکل کھوکھلا ہے۔ بی جے پی اب خود اپنے کارکنوں کو موقع دینے کے بجائے دوسری پارٹیوں کے لیڈروں اور عہدیداروں پر دباؤ ڈال کر، انہیں ڈرا دھمکا کر اپنی پارٹی میں شامل کر رہی ہے، جیسے کسی ڈائن کو دوسروں کو نگلنے کی بیماری لاحق ہو گئی ہو۔ سپکال نے واضح طور پر کہا کہ بی جے پی میں کوئی اصول باقی نہیں رہا، صرف اقتدار کی ہوس باقی ہے۔
پونے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کانگریس پارٹی کسی ایک لیڈر کی جاگیر نہیں بلکہ ایک نظریاتی جماعت ہے جو تمام طبقات اور نظریات کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ جو لوگ سوچ سمجھ کر پارٹی چھوڑتے ہیں، انہیں روکنے کی لاکھ کوشش کی جائے، وہ نہیں رکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بھی کئی لوگ رہے جنہیں کانگریس نے ایم ایل اے، ایم پی، وزیر، یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ بنایا مگر وہ بھی پارٹی سے منہ موڑ گئے۔ اب یہی لوگ پارٹی چھوڑ کر دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔ اگر اتنا سب کچھ ملنے کے بعد بھی یہ ناانصافی ہے، تو ایسی ناانصافی تو کانگریس کے کئی موجودہ کارکن خود اپنے ساتھ ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر کئی لوگ ہنستے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اگر ہمیں بھی ایسی ’ناانصافی‘ کا سامنا ہو جائے تو ہمیں کوئی گلہ نہیں۔
سپکال نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پونے ضلع میں کانگریس کی کارکردگی اگرچہ اس بار کمزور رہی ہے، مگر آئندہ وقت میں یقیناً بہتری آئے گی اور کانگریس اپنی قوت دوبارہ ثابت کرے گی۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ جو لوگ طے شدہ منصوبے کے تحت پارٹی چھوڑتے ہیں، انہیں روکنا ممکن نہیں ہوتا، لیکن عوام اور کارکن خود ان سے ضرور سوال کریں گے۔
شراب کے پرمٹ مخصوص کمپنیوں کو دینے کے معاملے پر انہوں نے نشاندہی کی کہ اس پورے عمل کے پیچھے پونے کے سرپرست وزیر کا براہِ راست ہاتھ ہے، اور وہی شخص ریاست کا ایکسائز (محصول) وزیر بھی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’ٹینگو‘ نامی برانڈ کس کا ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ یہاں مفاد کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کی صورت بالکل صاف ہے، اس لیے ایسے شخص کے پاس ایکسائز کا محکمہ رہنا جمہوریت اور شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے، لہٰذا ان سے فوری طور پر یہ محکمہ واپس لیا جانا چاہیے۔
ہرش وردھن سپکال نے پونے میں تلک خاندان سے ملاقات کر کے ڈاکٹر دیپک تلک کے انتقال پر تعزیت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر تلک کی وفات سے مہاراشٹر نے ایک اہم تعلیمی و سماجی رہنما کھو دیا ہے۔ ان کی خدمات تلک مہاراشٹر یونیورسٹی کی ترقی اور ’کیسری‘ اخبار کے ذریعے سماجی بیداری پھیلانے میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اس موقع پر کانگریس کے ریاستی نائب صدر برائے تنظیم و انتظام ایڈووکیٹ گنیش پاٹل اور پونے شہر کانگریس کے صدر اروند شندے بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
MPCC Urdu News 16 July 25.docx