کانگریس کے لیڈران سائیکل سے راج بھون پہنچے

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، مہنگائی، زرعی قوانین، مراٹھا واوبی سی ریزرویشن پر گورنر کو میمورنڈم

ممبئی: مرکز کی بی جے پی مودی حکومت ایندھن، گیس، خوردنی تیل ودالوں کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے عوام کو معاشی طور پر کررہی ہے۔ ایک جانب جہاں کورونا کی وجہ سے لوگوں کی زندگی پہلے ہی اجیرن ہوچکی ہے، وہیں غریب، متوسط طبقہ اور محنت کشوں ومزدوروں کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی شکل میں مرکزی حکومت اپنی جھولی بھررہی ہے۔ روزآنہ بڑھ رہی مہنگائی نے لوگوں کی کمر ہی توڑ رکھی ہے لیکن ان سنگین صورت حال سے بے خبر مرکزی حکومت کمبھ کرن کی نیند سورہی ہے۔ یہ سخت تنقید آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کے صدرناناپٹولے نے کی ہے۔

مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کانگریس لیڈران نے آج مالابار ہل کے ہینگینگ گارڈن سے راج بھون تک سائیکل ریلی نکالی اور گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کی۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، مہنگائی، مراٹھا و او بی سی ریزرویشن اور زرعی قوانین پر کانگریس کے لیڈران نے گورنر کو میمورنڈم دیئے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کی سطح کم ہونے کے باوجود ہمارے ملک میں روزانہ پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ مودی حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ مرکز کی مودی حکومت اپنے پڑوسی ممالک کو 30 روپے فی لیٹر کے حساب سے پٹرول اور ڈیزل فراہم کررہی ہے، جبکہ اپنے شہریوں پٹرول 107 روپے اور ڈیزل 96 روپے میں دے رہی ہے۔ایندھن پر ایکسائز ڈیوٹی، روڈ ڈیویلپمنٹ سیس اور زرعی سیس کے ذریعے مودی حکومت بھاری منافع کما رہی ہے۔ مرکز حکومت جو سیس وصول کررہی یہ اس میں سے ریاستی حکومتوں کو ایک روپیہ بھی نہیں ملتا ہے۔ گزشتہ 7 سالوں میں مودی سرکار نے ایندھن ٹیکس سے پرعائد ٹیکس کے ذریعے تقریباً 25 لاکھ کروڑ کا منافع کمایاہے۔

پٹولے نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں دن بہ دن اضافے ہورہا ہے اور مرکز کی بی جے پی حکومت لوگوں کو کوئی ریلیف نہیں دے رہی ہے۔اس کے برعکس بی جے پی لیڈران ریاستی حکومتوں کو ٹیکس کم کرنے کا مشورہ دے کر عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ جبکہ ریاستی حکومت کا فیول ٹیکس مرکزی حکومت کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔ مرکزی حکومت ٹیکسوں کے ذریعے اپنے خزانے بھر رہی ہے۔ایسی صورت میں جبکہ مرکزی حکومت ریاستی حکومتوں کے حق کا جی ایس ٹی بھی نہیں دے رہی ہے، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کو راحت دینے کی ذمہ داری ریاست حکومتوں پر ڈال رہی ہے۔ یہ ملک اور عوام کو سراسرگمراہ کرنے کی کوشش ہے۔

اس سائیکل ریلی میں قانون سازکونسل میں کانگریس کے لیڈر وزیرمحصول بالاصاحب تھورات، وزیرتوانائی ڈاکٹر نتن راؤت، خواتین واطفال کے بہبود کی وزیر یشومتی ٹھاکور، اسکولی تعلیم کی ویزر ورشا گائیکواڑ، مویشی پالن کے وزیر سنیل کیدار، ماہی گیری کے وزیر اسلم شیخ، وزیرمملکت ویشواجیت کدم، ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر عارف نسیم خان، چندرکانت ہنڈورے، ایم ایل اے کنال پاٹل، ممبئی کانگریس کے صدرایم ایل اے بھائی جگتاپ، ایم ایل اے امین پٹیل،ایم ایل اے ذیشان صدیقی،ایم ایل اے ابھیجت ونجاری،ایم ایل اے راجیش راٹھوڑ، ممبئی کانگریس کے کارگزار صدر چرن سنگھ سپرا، مہیلا کانگریس کی ریاستی صدر سندھیا سوالاکھے، سابق وزیر بابا صدیقی، انیس احمد، جنرل سکریٹری راجن بھوسلے، پرکاش سوناونے، رام کشن اوجھا، ریاستی سکریٹری سیدذیشان احمدو دیوانند پوار وغیرہ موجود تھے۔

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف کانگریس ریاست بھر میں احتجاجات کے ذریعے آواز بلند کررہی ہے۔ محکمہ محصول کے علاقائی دفتروں پر سائیکل ریلی نکالی گئی، میلاکانگریس نے ریاست ریاست کے تمام ضلعی کلکٹر کے دفاتر کے سامنے چولہے جلاکر مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا، ضلع وتعلقہ سطح پر بھی مظاہروں کے ذریعے مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا، پٹرول پمپوں پر لوگوں کے دستخط لینے کی مہم چلائی گئی۔ یوتھ کانگریس، این ایس یوآئی، تمام فرنٹل وسیل کے عہدیدران وکارکنان نے اس حتجاج میں حصہ لیا۔ ۷ جولائی سے شروع ہونے والا یہ ریاست گیر احتجاج 17/جولائی تک جاری رہے گا۔