بہار کے نتائج کا سہرا الیکشن کمیشن اور گیانیش کمار کے سر
ووٹ چوری اور SIR کی وجہ سے این ڈی اے کی جیت: ہرش وردھن سپکال
او بی سی شعبے کے نئے صدر ڈاکٹر یشپال بھینگے کا عہدہ سنبھالنے کی تقریب کا انعقاد
مدھوکر پیچڈ کی پوتی گرجا پیچڈ کی کانگریس میں شمولیت، نہرو جینتی کے موقع پر ’شیدوری‘ کے خصوصی شمارےکا اجرا
ممبئی: بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کا پورا کریڈٹ الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو جاتا ہے۔ ووٹ چوری، بوگس ووٹنگ اور SIR کے ذریعے مخالفین کے ووٹرز کو فہرست سے خارج کر کے بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی جیت یقینی بنائی گئی ہے۔’بچیں گے تو اور بھی لڑیں گے‘ اسی جملے کے ساتھ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے او بی سی شعبے کے نو مقرر صدر پروفیسر ڈاکٹر یشپال بھینگے کا عہدہ سنبھالنے کا جلسہ تلک بھون میں منعقد ہوا، جس میں کانگریس صدر ہرش وردھن سپکال، سینئر رہنما اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن بالاصاحب تھورات، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے او بی سی شعبے کے صدر ڈاکٹر انیل جے ہند، اے آئی سی سی کے سکریٹری جتیندر بگھیل، کانگریس کے معاون انچارج بی ایم سندیپ، ریاستی نائب صدر موہن جوشی، سچن نائک، راجندر راکھ، جنرل سکریٹری دادا صاحب مونڈے، رامہری روپنوار، شاہ عالم شیخ، پلّوی رینکے سمیت متعدد لیڈران موجود تھے۔
تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بہار کے نتائج کے بعد جو الزامات حکمراں پارٹی لگا رہی ہے وہ بے بنیاد ہیں۔ پانچ برس تک غریب عوام کو نظرانداز کرنے کے بعد انتخاب سے ٹھیک پہلے خواتین کو دیے گئے دس ہزار روپے کے اثرات پر ضرور بحث ہوگی، لیکن الیکشن کمیشن نے جس طرح حکمراں جماعت کے حق میں ماحول بنایا، وہ جمہوریت کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ ملک کو آج ٹی این سیشن جیسے ایماندار الیکشن کمشنر کی ضرورت ہے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر اور ورکنگ کمیٹی کے رکن بالاصاحب تھورات نے کہا کہ او بی سی سماج کی چھوٹی چھوٹی برادریوں تک پہنچنا وقت کی ضرورت ہے۔ چھوٹے گروہوں کو ساتھ لے کر تنظیم کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور دستورِ ہند کا نظریہ ایک ہی ہے اور وہ ہے برابری کا نظریہ۔ وہی نظریہ جو ہمارے عظیم و قومی شخصیات نے دیا ہے۔ آج ملک ایک بڑے بحران سے گزر رہا ہے اور جو لڑتا ہے اسی کا نام تاریخ میں لکھا جاتا ہے۔ راہل گاندھی اس وقت ملک، جمہوریت اور دستور کو بچانے کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا ہوگا۔
او بی سی شعبے کے قومی صدر ڈاکٹر انیل جے ہند نے کہا کہ مہاراشٹر شاہو مہاراج، مہاتما پھلے اور وراکری سمپرادائے کی زمین ہے، جہاں سماجی انصاف کا راستہ پورے ملک کو دکھایا گیا۔ ملک کی نوّے فیصد آبادی کی سیاست میں نمائندگی آج بھی سب سے کم ہے اور طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز ہے۔ اس صورتحال کو بدلنے کی جدوجہد راہل گاندھی کر رہے ہیں۔نئے او بی سی صدر ڈاکٹر یشپال بھینگے نے اپنے خطاب میں کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے او بی سی سماج کی آواز دبائی ہے۔ یہی منووادی سوچ تھی جس نے چھترپتی شیواجی کے راجیہ ابھیشیک کی مخالفت کی۔ آج بھی بی جے پی حکومت میں او بی سی طبقے کی آواز کو کچلا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ غیر جمہوری رویوں کا جواب جارحانہ انداز سے دیا جائے گا اور سنہ 2029 میں مہاراشٹر کا وزیر اعلیٰ کانگریس پارٹی کا ہوگا۔ بھینگے نے تنظیمی سال کے لیے اپنا ’سَنكَلپ پتر‘ بھی سپکال اور ڈاکٹر انیل جے ہند کو پیش کیا۔
سینئر رہنما مدھوکر پچڈ کی پوتی گرجا پچڈ نے آج کانگریس صدر ہرش وردھن سپکال اور بالاصاحب تھورات کی موجودگی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ سپکال نے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ گرجا پیچڈ کی آمد سے آدیواسی سماج کو ایک نئی قیادت ملی ہے اور وہ آدیواسی حقوق کے لیے مضبوط آواز بنیں گی۔ اس موقع پر ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی جینتی کے موقع پر کانگریس کے ترجمان ’شیدوری‘ کے خصوصی شمارے کا اجرا ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، بالاصاحب تھورات اور دیگر رہنماؤں کی موجودگی میں انجام دیا گیا۔
MPCC Urdu News 14 November 25.docx