MPCC Urdu News 13 April 24

کانگریس اقتدار میں آئی تو کسانوں کو قرض معافی، جی ایس ٹی سے پاک کھیتی، غریب خواتین کو ایک لاکھ روپے اور 30 لاکھ خالی سرکاری اسامیاں پُر کی جائیں گی: راہل گاندھی

کانگریس کا منشور ’جن کی بات‘ ہے جو بند کمرے میں نہیں بلکہ پورے ملک میں لاکھوں لوگوں کے مشورے سے بنایا گیا ہے

مودی حکومت پچھلے 10 سالوں سے غریبوں، دلتوں، او بی سی، قبائلیوں کے لیے نہیں بلکہ صرف اڈانی کے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے

بھنڈارا/ممبئی: کانگریس پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں 5 اہم ترین چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ منشور بند کمرے میں نہیں بلکہ ملک بھر کے لاکھوں لوگوں سے ملنے اور ان کے ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ کانگریس کا نعرہ صحیح معنوں میں ’جن کی بات‘ ہے۔ اگر کانگریس اقتدار میں آئی تو کسانوں کے قرضے معاف کیے جائیں گے، کھیتی کو جی ایس ٹی فری بنایا جائے گا، سوامی ناتھن کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ایم ایس پی قانون بنایا جائے گا۔ 30 لاکھ خالی سرکاری اسامیاں پر کی جائیں گی۔ اگنی ویر یوجنا بند کر دی جائے گی۔ ملک کی غریب خواتین کو سالانہ ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ یہ تمام اعلان کانگریس کے سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھنڈارا ضلع کے ساکولی میں منعقدہ ایک عظیم الشان جلسہ عام میں کیا۔

راہل گاندھی کے اس جلسۂ عام میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، کانگریس پارٹی کے لیڈر بالا صاحب تھورات، اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر وجے وڈیٹی وار، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر جینت پاٹل، کانگریس کے رکن راجیہ سبھا چندرکانت ہنڈورے، گوا کے انچارج مانیک راؤ ٹھاکرے، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری آشیش دووا، سابق وزیر ستیش چترویدی، بھنڈارا گوندیا لوک سبھا کے امیدوار ڈاکٹر پرشانت پڈولے، گڈچرولی چمور کے کانگریس کے امیدوار ڈاکٹر نام دیو کرسن، ناگپور لوک سبھا کے امیدوار وکاس ٹھاکرے، چندرپور کی امیدوار پرتیبھا دھانورکر، ریاستی نائب صدر نانا گاونڈے، اقلیتی شعبے کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے وجاہت مرزا، ابھیجیت ونجاری، سہسرام کوروٹے، سابق ایم پی مدھوکر کوکڑے، خوشحال بوپچے، بھنڈارا ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر موہن پنچ بھائی اور ودربھ میں انڈیا الائنس کی تمام پارٹیوں کے لیڈران اور عہدیدار موجود تھے۔

اس جلسۂ عام سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے مزید کہا کہ حکومت میں ایس سی، ایس ٹی، قبائلی، او بی سی کمیونٹی کی شمولیت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آتے ہی ذات پر مبنی مردم شماری اور معاشی اور سماجی سروے کا انقلابی فیصلہ لیا جائے گا تاکہ سماج کو آبادی کے مطابق مساوی حقوق حاصل ہوں۔ مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ یہ حکومت مودی کی نہیں اڈانی کی ہے۔ یہ ارب پتیوں کی حکومت ہے اور نریندر مودی نے پچھلے 10 سالوں میں صرف ان کے لیے کام کیا ہے۔ آج ملک کے ہوائی اڈے، بندرگاہیں، سڑکیں، کان کنی، کوئلہ، شمسی توانائی سب کچھ اڈانی کی ملکیت ہے۔

کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ نریندر مودی 24 گھنٹے مذہب اور ہندو مسلم کی بات کرتے ہیں۔ وہ ایک مذہب کو دوسرے مذہب کے خلاف کھڑا کرتے ہیں اور عام لوگوں کی جائیداد اڈانی کے ہاتھوں میں دیتے ہیں۔ مودی حکومت نے جی ایس ٹی کے ذریعے عوام کو لوٹا ہے۔ راہل گاندھی نے پوچھا کہ نریندر مودی نے او بی سی، کسانوں، چھوٹے تاجروں، مزدوروں، غریبوں، قبائلیوں کے لیے کیا کیا؟ آج ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور بے روزگاری ہے لیکن مودی اس پر کبھی بات نہیں کرتے۔ کورونا کے دور میں دریائے گنگا میں ہزاروں لاشیں تیرتی نظر آئیں لیکن مودی لوگوں کو تالی و تھالی بجانے، موبائل کا ٹارچ جلانے کے لیے کہہ رہے تھے۔

اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ کانگریس کے منشور میں ذات پر مبنی مردم شماری کا وعدہ کیا گیا ہے اور پسماندہ، قبائلی اور او بی سی طبقوں کے فائدے کے لیے اقتصادی اور سماجی سروے بھی کرایا جائے گا۔ بھنڈارا ضلع کو اس سے فائدہ پہنچے گا کیونکہ اس ضلع میں ایس سی، ایس ٹی، خانہ بدوش، قبائلی اور او بی سی برادریوں کی زیادہ آبادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے منشور میں کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں، خواتین اور غریبوں کے لئے کئے گئے وعدوں کے لئے میں راہل گاندھی کا بہت شکر گزار ہوں۔

کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات نے کہا کہ جب بھی ملک میں مساوات کا مسئلہ کھڑا ہوا، آئین و جمہوریت پر خطرات کے بادل منڈلائے اور جب بھی کانگریس پارٹی مشکل میں پڑی ودربھ کے لوگ کانگریس کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ یو پی اے حکومت کے دوران کئی ترقیاتی کام ہوئے لیکن بی جے پی نے صرف مذہب کے نام پر تنازعات کھڑا کرکے ووٹ مانگے ہیں۔ بی جے پی مذہب کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہے، لیکن عام رائے دہندگان کو اس میں نہیں پھنسنا چاہئے اور کانگریس اور مہاوکاس اگھاڑی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہونا چاہئے۔ بالا صاحب تھورات نے کہا کہ ملک بھر میں پد یاترا نکالنے کے بعد راہل گاندھی پارٹی کے منشور کی شکل میں عوام کے لیے ضمانتیں لے کر آئے ہیں۔ اس ضمانت سے عام لوگوں کی زندگیوں میں خوشحالی آئے گی۔ تھورات نے لوگوں سے کانگریس پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔

اپوزیشن لیڈر وجے ودیٹی وار نے کہا کہ مودی حکومت کے دور میں مہنگائی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ کانگریس کی حکومت میں بی جے پی کو 400 روپے کا سلنڈر مہنگا لگتا تھا لیکن آج 1100 روپے کا سلنڈر بھی بی جے پی کو مہنگا نہیں لگتا۔ بجلی کے بل میں 10 فیصد اضافے سے بجلی بھی مہنگی ہو گئی ہے۔ اڈانی کے سمارٹ میٹر سے عام لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ وڈیٹی وار نے عام لوگوں سے کہا کہ وہ اس لٹیری حکومت کو اقتدار سے بے دخل کریں، کانگریس کی حمایت کریں اور مرکز میں کانگریس اور انڈیا الائنس کی حکومت لے آئیں۔

اس موقع پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے کہا کہ مودی حکومت کے دوران کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ اوسطاً 30 کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ کسانوں نے مرکزی حکومت کی طرف سے لائے گئے تین کالے قوانین کے خلاف احتجاج کیا، جس میں 700 کسانوں کی موت ہو گئی۔ وزیراعظم فصل بیمہ اسکیم سے صرف انشورنس کمپنیوں کو ہی فائدہ ہوا ہے۔ ریاستی حکومت کی ایک روپیہ فصل بیمہ اسکیم بھی گمراہ کن ہے۔ ایسے میں اس بی جے پی حکومت کو شکست دیں کیونکہ یہ حکومت عوام کے لیے نہیں بلکہ پونجی پتیوں کے لیے کام کر رہی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading