جمہوریت کے خلاف بی جے پی کی سازش
سوشل میڈیا پر بی جے پی کے نئی دہشت گردی کا پردہ فاش کیا جائے
کانگریس پارٹی کے وفد کی ممبئی پولیس کمشنر سے ملاقات
ممبئی: بی جے پی نے سوشل میڈیا پر نئی دہشت گردی پھیلارکھی ہے اور کرائے کے آئی ٹی سیل کے ذریعے راتوں رات ٹوئیٹر، فیس بک پر جعلی اکاؤنٹ کھول کر بدنامی کرنے وفیک نیوز پھیلانے کی مہم میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ نئی دہشت گردی جمہوریت کے خلاف رچی گئی سازش ہے۔ اس نئی دہشت گردی کی بیخ کنی ہونی چاہیے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کہی ہیں۔
بی جے پی کی سوشل میڈیا ریکٹ معاملے میں سچن ساونت کی قیادت میں کانگریس کے وفد نے آج ممبئی پولیس کمشنر پرمویر سنگھ سے ملاقات کی۔ اس وفد میں ریاستی ترجمان ڈاکٹر راجوواگھمارے اور رتناکر سنگھ موجود تھے۔ اس وفد نے بی جے پی کے ذریعے چلائی جانے والی بدنامی مہم کا ٹوئیٹر سے حاصل شدہ ڈیٹا تفتیش کے لیے پولیس کو دیا۔ پولیس کو دی گئی معلومات میں ان کمنیوں کے نام، سوشل میڈیا پر اصل وجعلی اکاؤنٹ کی تفصیل شامل ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر پرم ویر سنگھ نے وفد کو اس کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس کی تفتیش کریں گے۔
اس تعلق سے معلومات دیتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ بی جے پی نے منصوبہ بند طریقے سے سوشل میڈیا کے ذریعے مخالفین کو بدنام کرنے اور ان کی شبیہ کو داغدار کرنے کی مہم کا نیا طریقہ کار اختیار کیا ہے جو ایک طرح سے نئی دہشت گردی ہے۔ اس دہشت گردی کے ذریعے راتوں رات ٹوئیٹر وفیس بک پر ہزاروں جعلی اکاؤنٹ کھول کر مخالفین کو بدنام کرنے کی مہم چلائی جاتی ہے۔ سوشانت سنگھ راجپوت معاملے میں اسی ریکیٹ کا استعمال کیا گیا ہے۔ ان ٹوئیٹس کو دیکھ کر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ مہاراشٹر حکومت کو بدنام کرنے کی منصوبہ بند سازش تھی۔
ان ٹویٹس کا معمول کے برخلاف پیٹرن، فیس بک یا ٹویٹر کا کوئی عام صارف 3 ماہ میں 40ہزار ٹویٹس / پوسٹس نہیں بھیج سکتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ٹویٹر ہینڈلز 25 منٹ پر 25 ٹوئیٹس کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ تمام ٹویٹس عام طور پر ایک ہی موضوع پر کئے گئے ہیں یعنی کہ ان میں سوشانت سنگھ راجپوت (ایس ایس آر) ہیش ٹیگ کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ مہاراشٹرا پولیس اور مہاراشٹرا حکومت کی شبیہہ کو داغدار بنانے کے لئے کچھ پروفیشنل ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔اس مہم کا واحد مقصد یہشبیہ بنانا تھا کہ وزیر اعلی اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ممبئی پولیس اس کیس کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کرایے پرسوشل میڈیا پر ٹرینڈ طے کرنے کا یہ ایک طریقہ ہے اور اس معلومات کی بنیاد پر گودی نیوز چینلز پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں۔سوشانت سنگھ راجپوت کی روح سے بات کرنے کی ایک ویڈیو یوٹیوب چینل پر وائرل ہوا تھا۔ ساونت نے کہا، ”یہ گوبلز تکنیک کا ایک ترقی یافتہ ورژن ہے اور بی جے پی قائدین اس پر مصنوعی ریفرنڈم تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ بہت سنجیدہ اور تشویشناک ہے۔
کانگریس نے مطالبہ کیا تھا کہ بی جے پی کی نئی دہشت گردی کے پیچھے اصل ماسٹر مائنڈ کو تلاش کرنے کے لئے ایس آئی ٹی کو تشکیل دی جائے اورسوشل میڈیا ریکیٹ بے نقاب کیا جائے۔ ممبئی پولیس بھی تفتیش کر تے ہوئے اس طرح کے 80ہزار جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے بدنامی کی مہم چلانے کے معاملے کو بے نقاب کیا تھا۔۔ مشی گن یونیورسٹی نے بھی اس طرح کی مہم میں بی جے پی کا ہاتھ ہونے کو اپنی رپورٹ میں پیش کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل نے بھی فیس بک اور بی جے پی کے مابین گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا تھا۔سچن ساونت نے کہا کہ پالگھر میں دو سادھووں کے قتل کے دوران دہلی فسادات میں اسی موڈس آپرینڈی کا استعمال کیا گیا تھا اور مستقبل میں بھی اسی طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے سماج میں بدامنی پھیلائی جاسکتی ہے۔ نیز اپوزیشن کی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بھی اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔