آرایس ایس نے ہی ملک میں سماجی عدم مساوات کا بیج بویا ہے: ناناپٹولے

ممبئی:مرکز میں آر ایس ایس کے قیادت والی بی جے پی حکومت کے آنے کے بعد سے ملک میں مہنگائی، غریبی اور بے روزگاری کی صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے۔ جس کی وجہ سے ملک کے عوام کے ذہنوں میں مرکزی حکومت کے خلاف شدید ناراضگی ہے۔ مودی حکومت کی مختلف سطحوں سے سخت تنقید کی جارہی ہے، اس کے باوجود مودی حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔یہ باتیں ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ آج آر ایس ایس ملک میں سماجی عدم مساوات کی بات کر رہی ہے، جبکہ سچائی یہ ہے کہ آر ایس ایس نے ہی اسے پیدا کیا ہے اور پالا پوسا ہے۔ اگر آر ایس ایس واقعی مہنگائی، غریبی وسماجی عدم مساوات سے پریشان ہے تواسے مودی حکومت سے جواب طلب کرنا چاہئے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ آر ایس ایس نے ہی ملک میں عدم مساوات کا بیج بویا ہے اور وہی اس کے پھیلنے کی ذمہ دار ہے۔گزشتہ 8 سال سے مرکز میں آر ایس ایس کے نظریے کی حامل حکومت ہے اور بی جے پی کی مودی حکومت سنگھ کے نظریے کے مطابق ہی کام کر رہی ہے۔ اس حکومت کے دوران غریبوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ مودی حکومت خود کہتی ہے کہ ملک میں 80 کروڑ لوگوں کو مفت اناج فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ ترقی کی شرح سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دوران سب سے زیادہ تھی۔ 24 کروڑ لوگوں کو غربت کی سطح سے اوپراٹھایا گیا تھالیکن مودی حکومت کے دور میں غلط پالیسیوں کی وجہ سے شرح نمو مسلسل گر رہی ہے۔ 27 کروڑ لوگ پھر سے غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔ بیروزگاری 45 سال میں سب سے زیادہ ہے۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری بھی ملک کی غربت کی بات کرتے ہیں، لیکن مودی حکومت عوام کے مفاد میں فیصلے کرتی نظر نہیں آتی۔پٹولے نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے ساتھ راہل گاندھی بھی مسلسل ان مسائل کو اٹھا رہے ہیں اور مرکزی حکومت سے جواب مانگ رہے ہیں۔ بھارت جوڑو یاترا میں مہنگائی، بے روزگاری، سماجی عدم مساوات جیسے مسائل بھی اٹھائے جا رہے ہیں اس لیے آر ایس ایس کو اس پر توجہ دینی چاہیے، لیکن آر ایس ایس اس کے بارے میں کھوکھلی فکر مندی کا مظاہرہ کررہی ہے جو کہ بالکل اس جیسا ہے کہ ’میں مارنے کا ڈرامہ کرتا ہوں، تم رونے کے اداکاری کرتے رہو‘۔

نانا پٹولے نے کہا کہ آج ملک کے عوام مہنگائی اور بے روزگاری کے سب سے بڑے بحران کا سامنا کر رہے ہیں لیکن مودی حکومت کے دوران روزگار پیدا کرنے کے بجائے موجودہ ملازمتوں کو ہی ختم کردیا گیا ہے۔ سنگھ کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ملازمت کے متلاشیوں کو نئے کاروبار شروع کرکے روزگار پیدا کرنے پر زور دیا جانا چاہئے جبکہ وزیر اعظم مودی نوجوانوں کو پکوڑے تلنے اور رکشہ چلانے جیسے کام کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ پٹولے نے کہا کہ اگر آرایس ایس کو واقعی سماجی عدم مساوات کی فکر ہے تو انہیں مودی حکومت کو عوام کے مفاد میں فیصلے کرنے پر مجبور کرنا چاہیے اور یہ حکومت صرف دو لوگوں کے مفاد کے لیے کام نہ کرے بلکہ پورے ملک کی عوام کی بھی فکر کرے۔

’بھارت جوڑو یاترا ‘کے دھکے سے ہی بی جے پی کو’سرودھرم سمبھاؤ ‘کی یاد آئی ہے: اتل لونڈھے

فضائیہ کے پروگرام میں پنڈت کے ساتھ مولانا کی بھی دعا

ممبئی:ممبرپارلیمنٹ راہل گاندھی کی قیادت میں بھارت جوڑو یاترا نے ملک کا ماحول بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس پد یاترا کو تمام ذاتوں اور مذاہب کے لوگوں کی طرف سے زبردست تعاون مل رہا ہے جس کی وجہ سے بی جے پی اور آر ایس ایس کوبھی اس یاترا کا نوٹس لینے پرمجبورہونا پڑا ہے۔اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی موجودگی میں جودھ پور میں جنگی ہیلی کاپٹر کوفضائیہ کے حوالے کرنے کی تقریب میں تمام مذاہب کے مذہبی لوگوں سے دعائیں کروائی گئیں۔یہ صرف بھارت جوڑو یاترا کے دھکے کی وجہ ہے ہوا ہے کہ بی جے پی کو سرودھرم سمبھاؤ کی یادآئی ہے۔ یہ باتیں ریاستی کانگریس کے ترجمان وجنرل سکریٹری اتل لونڈھے نے کہی ہیں۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے مزید کہا ہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ جودھ پور میں سرکاری پروگرام میں موجود تھے۔ ان کے سامنے پنڈت جی کے ذریعے منتروچار کے ساتھ ہی مولاناصاحب اور سکھ وپادری بھی موجود تھے جن نے اس موقع پر دعائیں لی گئیں۔مسلسل ہندو مسلم تنازعے کوہوا دے کر اپنا سیاسی فائدہ حاصل کرنے والی بی جے پی کومولانا کی یاد آئے، اسی پروگرام میں سکھ وعیسائی مذہب کے مذہبی لوگوں کو بلاکر ان سے دعائیں کروائی جائیں، یہ یقینی طور پر محض اتفاقیہ نہیں ہے۔ گجرات کے احمد آبادمیں قومی کھیلوں کے مقابلے جاری ہیں۔ اس مقابلے پر بھی ’بھارت جوڑو یاترا‘کا سایہ پڑا ہوا نظر نظر آرہا ہے۔اس کھیل کے مقابلے کے لیے ’کھیلے گا بھارت، جڑے گا بھارت‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی خوش آئند ہے لیکن یہ بھی صاف نظر آرہا ہے کہ بھارت جوڑو یاترا نے بی جے پی کو منافرت کی سیاست کو بالائے طاق رکھنے پر مجبور کردیا ہے۔

اتل لونڈھے نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کا مقصد ہندوستان کی تکثیریت میں اتحاد کو برقرار رکھنا ہے جسے لوگوں کا زبردست تعاون مل رہا ہے۔ راہل گاندھی کو عوام کی جانب سے ملنے والے اس تعاون کو دیکھ کر بی جے پی وآرایس ایس کو یہ دکھانے پرمجبور ہونا پڑرہا ہے کہ ہم دوسرے مذاہب کے خلاف نہیں ہیں۔ سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کا دہلی میں ایک مسجد میں جاکر اس کے امام سے ملاقات کرنا بھی کوئی اتفاقی بات نہیں ہے بلکہ یہ بھارت جوڑو یاترا کا اثر ہے جو اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ بھارت جوڑو یاترا اب تک 500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر چکی ہے، 3 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ابھی اورطے کرناباقی ہے۔ یہ یاتراجوں جوں آگے بڑھے گی، اس طرح کی تبدیلیاں مزیددیکھنے کو ملیں گی۔لونڈھے نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ بھارت جوڑو یاتراسے جس طرح ملک کا ماحول تبدیل ہوراہے اس کے پیشِ نظر یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ 2024 کے انتخابات میں آمر اور متکبر حکومت کوشکست اور جمہوریت کی کامیابی کو کوئی روک نہیں سکے گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading