مودی حکومت ریزرویشن کی50فیصد کی حد کیوں نہیں ختم کررہی ہے؟: اتل لونڈھے
کانگریس پر نتیش رانے کا الزام لاعلمی پر مبنی،مراٹھا ریزرویشن پر کانگریس کا موقف عوامی ہے
ممبئی:ریزرویشن کے معاملے پر کانگریس پارٹی کے موقف سے سبھی واقف ہیں اور کانگریس کی طرف سے وقتاً فوقتاً اس کو واضح بھی کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کے ایم ایل اے نتیش رانے کو اس کا علم نہیں ہے، اسی لیے انہوں نے کانگریس سے اس سلسلے میں اپنا موقف واضح کرنے کے لیے کہا ہے۔ ملک بھر میں مختلف ذاتوں کے لیے ریزرویشن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کانگریس پارٹی نے حیدرآباد CWC میٹنگ میں ایک قرارداد پاس کی تھی جس میں ذات پر مبنی مردم شماری کرانے اور 50 فیصد ریزرویشن کی حد ختم کرنے کا مطالبہ تھا۔ اب نتیش رانے کو مرکز کی بی جے پی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی سے پوچھنا چاہئے کہ وہ ذات پرمبنی مردم شماری کرانے اور ریزرویشن کی 50 فیصد کی حد کو ہٹانے کا فیصلہ کب کریں گے؟نتیش رانے کو یہ مشورہ ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے دیا ہے۔
مراٹھا ریزرویشن پر کانگریس کے موقف پر بی جے پی ایم ایل اے نتیش رانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے مزید کہا کہ دیویندر فڈنویس کے ترجمان نتیش رانے کو پہلے ریزرویشن پر اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔ فڈنویس کی آواز کے ساتھ ساتھ وہ مراٹھا ریزرویشن کی بھی مخالفت کر رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ بھول گئے ہیں کہ اس سے سماج کو نقصان ہو رہا ہے۔ 2014 میں پرتھوی راج چوہان حکومت کے دوران کانگریس اگھاڑی حکومت نے مراٹھا اور مسلم برادریوں کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے لیے ایم ایل اے نتیش رانے کے والد شری نارائن رانے کی کمیٹی بنائی گئی اور اس کمیٹی کی رپورٹ پر ہی مراٹھا برادری کو ریزرویشن دیا گیا تھا۔ اس ریزرویشن کے خلاف عدالت میں کون گیا؟ نتیش رانے کو پہلے اپنے والد صاحب سے اس بارے میں معلومات لینی چاہئے اور پھر کانگریس کے موقف کے بارے میں بات کرنی چاہئے۔لونڈھے نے کہا کہ اس بات کی تحقیق بھی کی جانی چاہئے کہ کانگریس حکومت کی طرف سے دیا گیا مراٹھا ریزرویشن ایم ایل اے نتیش رانے کے موجودہ باس دیویندر فڈنویس کی لاپرواہی کی وجہ سے ختم ہوا ہے۔ اتل لونڈھے نے کہا کہ نتیش رانے کو پورے معاملے کی جانکاری لینے کے بعد بات کرنی چاہیے اور صبح اٹھ کر ادھ کھلی آنکھ کے ساتھ کچھ بھی نہیں بڑبڑا ناچاہئے۔
ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان نے کہا کہ ایم ایل اے نتیش رانے نے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے، رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے موقف پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ نتیش کاکہنا ہے کہ راہل گاندھی نے منوج جرانگے کو فون کیوں نہیں کیا اور ان سے متعلق ٹوویٹ کیوں نہیں کیا۔ میں نتیش کو بتانا چاہتا ہوں کہ راہل گاندھی ملک کے وزیر اعظم نہیں ہیں، بلکہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ ریزرویشن کا فیصلہ مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ کیا وزیر اعظم نریندر مودی نے مراٹھا ریزرویشن سے ’ایم‘ ہٹا دیا ہے؟ وزیر اعظم نریندر مودی جب شرڈی آئے تھے تو انہوں نے انتروالی سراٹی جا کر جرانگے پاٹل سے ملاقات کیوں نہیں کی؟ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر راہل گاندھی وزیر اعظم ہوتے تو جرانگے پاٹل کو بھوک ہڑتال نہ کرنی پڑتی۔ نتیش رانے کی ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سے متعلق بات کرنے کی اہلیت، قد اور صلاحیت نہیں ہے۔ اتل لونڈھے نے نتیش کو مشورہ دیا کہ وہ کانگریس پارٹی اور اس کے لیڈروں کے بارے میں پہلے مناسب معلومات حاصل کریں پھر بات کریں، ورنہ انہیں بھی اسی طرح کاجواب دیا جائے گا۔