پونے:7ستمبر(ورق تازہ نیوز) کانگریس اور راشٹروادی کانگریس میں سیٹون کے بٹوارے پر اب بھی تبادلہ خیال جاری ہے تاہم 220سیٹوں پرمفاہمت ہوچکی ہے ۔کچھ سیٹوں کوبدلا بھی جاسکتاا ہے ۔آئندہ 6-5 دنوں میں دونوں پارٹیوں کے قائدین کا اجلاس ہوگا جس میںبٹوارے پرقطعی فیصلہ کیاجائے گا۔ اس طرح کا صحافتی بیان راشٹروادی کانگریس کے پردیش صدر جینت پاٹل نے دیتے ہوئے کہا کہ جمعہ 6 ستمبر کوبارامتی کے ہاسٹیل میں شرد پوار کی نگرانی میں امیدواری پرچوں کی چھان بین کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔جس میں چھگن بھجبل ‘دلیپ وڑسے پاٹل‘ نواب ملک ‘اجیت پوار ‘ایم پی سپریاسولے‘ سابق وزیر فوزیہ خان ‘ششی کانت شندے ‘ روپال جاکنکر ‘ جئے دیو گائیکواڑ وغیرہ شریک تھے ۔
تقریبا دو گھنٹے سیٹوں کی تقسیم پرگفتگو ہوئی ۔ کانگریس ۔راشٹروادی کانگریس اور دوست پارٹیوں کی مہا اگھاڑی کی گفتگو میں کافی پیش رفت ہوئی ہے ۔ کانگریس پارٹی کی بھی دہلی میں میٹنگ ہوئی ہے جس میں مہاراشٹر اسمبلی کی 220 سیٹوں کی تقسیم پراتفاق رائے ہوا ۔جینت پاٹل نے کہا کہ ان کے پاس طاقتور اورعمدہ امیدوار ہیں۔ لیڈر اپنی کرسی بچانے کےلئے پارٹی چھوڑ کرزعفرانی پارٹیوں میں چلے گئے ہیں لیکن ورکرس پارٹی کے ساتھ ہیں۔ پاٹل نے کہا کہ وزیراعلیٰ مہاراشٹر سیکولر ووٹوںکوتقسیم کروانے کے لئے بہت کوشش کررہے ہیںں ۔ جہاں جہاں مہا اگھاڑی طاقتور ہے وہاں اگھاڑی کے ووٹوںکوتقسیم کرنے کے لئے ونچت بہوجن اگھاڑی کو طاقتور بنانے کہ مہم چلائی جارہی ہے لیکن اس سے کچھ نہیں ہوگا ۔ مہاراشٹر میں سیکولر مہا اگھاڑی کامیاب ہوگی ۔ واضح ہو کہ ایم آئی ایم نے ونچت اگھاڑی کاساتھ چھور دیا ہے اور اپنی طاقت پرا سمبلی چناو لڑنے کافیصلہ کیا ہے اس لئے وزیراعلیٰ اور زعفرانی سیاسی پارٹیوں کوزبردست دھکالگا ہے اس طرح کی بحث عوام میں جاری ہے۔