ٹرایفک پولیس کی ایمانداری، نوجوان کا گمشدہ پاکٹ اور پیسہ لوٹا دیا

مالیگاؤں(عامر ایوبی) عام طور پر پولس اور بالخصوص ٹرایفک پولس کا نام سنتے ہیں لوگوں کے ذہنوں کچھ اور ہی بات گردش کرنے لگتی ہے اور کچھ بدعنوانیوں کی وجہ سے دیگر پولس اہلکاروں کو بھی ایسا سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بات کل غلط ثابت ہوئی ہوا یوں کہ مالیگاؤں ٹرایفک پولس نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نوجوان کی گمشدہ پاکٹ جسمیں نقد 13 ہزار روپے اور دیگر ضروری کاغذات تھے اسے واپس لوٹا دیا تفصیلات کے مطابق جونے آگرہ روڈ پر ٹرایفک کانسٹیبل سچن دراڈے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا کہ شام 7 بجے کے قریب انہیں ایک پاکٹ ملا جس میں 13000 روپے نقد اور اے ٹی ایم کارڈ وغیرہ رکھے ہوئے تھے لیکن پاکٹ میں کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس سے اس کے مالک کی شناخت ہوتی ہو اس پر اس ایماندار کانسٹیبل نے اس پاکٹ کو مقامی ٹرایفک پولس دفتر میں بطور امانت رکھ دیا اور جس جگہ سے انہیں یہ پاکٹ ملی تھی وہاں کے آس پاس کے دکانداروں کو یہ کہہ دیا کہ اگر کوئی اپنی گمشدہ پاکٹ کی تلاش میں یہاں آتا ہے تو انہیں ٹرایفک پولس آفس پر روانہ کریں اسی اثناء ان کی ڈیوٹی ختم ہوگی اور وہ واپس چلے گئے ان کے جانے کے بعد ایک نوجوان جس کا نام عطاءالرحمن تھا وہ اپنے گمشدہ رقم و پاکٹ کی تلاش میں اس مقام پر آیا اور حواس باختہ اپنی گمشدہ چیز کی تلاش میں ادھر سے ادھر بھٹکنے لگا

آس پاس کے دکان داروں نے اس سے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ وہ اپنا گمشدہ پاکٹ تلاش کر رہا ہے تب دوکانداروں نے اسے سارا ماجرا سنایا اور اسے ٹرایفک پولس کے دفتر پر روانہ کیا نوجوان وہاں جاکر اپنے آنے کی غرض سنائی تب ٹریفک پولیس انچارج نریندر بھدانے اور سچن دراڈے نے اس سے ثبوت کو طلب کیا نوجوان نے پاکٹ میں رکھی ہوئی رقم کی تعداد اے ٹی ایم وغیرہ زبانی بتادیا جس پر ٹریفک پولیس نے اس کے پاکٹ کو رقم سمیت واپس کردیا ٹریفک پولس کے اس ایماندارانہ فعل کی چہار جانب سے پذیرائی ہورہی ہے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading