نئے فوجداری قوانین کے نفاذ پر مہاراشٹر میں اہم پیش رفتامت شاہ کی صدارت میں میٹنگ، جرائم پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات پر زور
(آفتاب شیخ)
نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں مہاراشٹر میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ سے متعلق ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سمیت مرکزی اور ریاستی اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں ریاست میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ، پولیس، جیل، عدالتوں، استغاثہ اور فرانزک نظام کی بہتری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ مودی حکومت عوام کو شفاف اور تیز انصاف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ جرائم کا فوری اندراج کیا جائے اور ایف آئی آر درج کرنے میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے مہاراشٹر میں ایک ماڈل پراسیکیوشن ڈائریکٹوریٹ سسٹم قائم کرنے کی تجویز دی اور 90 فیصد سے زائد سزا کی شرح حاصل کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔
امت شاہ نے منظم جرائم، دہشت گردی اور ہجومی تشدد کے واقعات کی نگرانی کے لیے پولیس افسران کو ہدایات جاری کیں اور کہا کہ جیلوں، سرکاری اسپتالوں اور فرانزک لیبز میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شواہد ریکارڈ کرنے کا نظام تیار کیا جائے۔
مرکزی وزیر نے مہاراشٹر کو سی سی ٹی این ایس 2.0 اور آئی سی جے ایس 2.0 سسٹم اپنانے کی تجویز دی اور کہا کہ سی سی ٹی این ایس سسٹم کو ریاستوں کے درمیان ایف آئی آر کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بہتر کیا جائے۔
وزیر داخلہ نے فرانزک سائنس موبائل وین ہر پولیس سب ڈویژن میں فراہم کرنے اور فنگر پرنٹ شناختی نظام کو نیشنل آٹومیٹڈ فنگر پرنٹ شناختی نظام (NAFIS) سے جوڑنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے جرائم سے ضبط شدہ جائیدادوں کی فوری واپسی کے لیے ایک موثر نظام قائم کرنے کا بھی مشورہ دیا۔
میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ریاستی پولیس اسٹیشنز میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو بہتر بنایا جائے گا اور تھانوں کی ظاہری حالت اور کارکردگی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے کہا کہ وہ ہر 15 دن میں ان اقدامات کا جائزہ لیں، جبکہ چیف سکریٹری اور ڈی جی پی ہر ہفتے جائزہ اجلاس منعقد کریں۔
