مصر کی شرقیہ گورنری میں ایک عورت نے اپنے بچے کو قتل کرنے کے بعد اسے کھا جانے کا اعتراف جرم کرتے ہوئے اس گھناؤنے جرم کی تفصیلات بیان کی ہیں۔قاہرہ 4نیوز ویب سائٹ سمیت مقامی میڈیا کے مطابق اس نے تفتیشی حکام کو بتایا ہے کہ”جب میں نے اس کے سر پر کلہاڑی ماری تو وہ زندہ تھا۔ میں نے اسے پکڑا، قتل کیا اور غسل خانے میں گھسیٹ کر لے گئی، اس کا سر اس کے جسم سے الگ کیا، اسے کاٹ کر وہیں اس کی کھال اتار دی”
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عورت نفسیاتی مسائل کی شکار ہے۔ تاہم اس کے سابقہ شوہر اور مقتول بچے کے والد کے وکیل کا کہنا ہے کہ عورت نے تفتیشی حکام کے سامنے تفصیلی اعتراف میں تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ اچانک سرزد نہیں ہوا بلکہ پہلے اس نے کافی وقت تک سوچا، منصوبہ بندی کی اور فیصلہ کیا۔
مقتول کے وکلا میں سے ایک نے ملزمہ کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ "ملزمہ نے مقتول بچے کو کلہاڑی کے دستے کی تین ضربیں لگائیں، وہ زمین پر گرا تو ساکت تھا، لیکن زندہ تھا۔ اس کے بعد چھری سے اسے ذبح کر کے سر کو جسم سے الگ کیا، اس کی کھال اتاری، لاش کو کاٹ پھر اس نے ان میں سے کچھ ٹکڑوں کو چولہے پر دیگچے میں ڈال کر پکایا اور کھا لیا۔
تحقیقات کی روشنی میں فاقوس پولیس اسٹیشن کے تفتیشی حکام نے اسے پہلے سے سوچے سمجھے قتل کے اقدام کے تحت حراست میں لینے کا فیصلہ کیا۔الشروق” نامی ویب سائٹ نے ملزمہ کی کسی حد تک چھپی ہوئی تصویر شائع کی ہے اور بتایا ہے کہ بچے کی عمر تقریباً 5 سال تھی، جبکہ تفتیش کاروں کو دو آلہ قتل اور کئی دیگر شواہد ملے ہیں۔