ساڑھے پندرہ برسوں سے اسرائیلی محاصرے میں فلسطین کے سب سے گنجان آباد علاقے غزہ میں آگ بھڑکنے سے سات بچوں سمیت کم از کم اکیس افراد جل کر جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
اسرائیل کا طویل محاصرہ بھی اس زیادہ جانی نقصان کا سبب بنا ہے کہ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں مقبوضہ فلسطین کے دیگر علاقوں سے بھی پہنچنا ممکن نہ تھا۔
جمعرات کے روز غزہ کی پٹی پر یہ آگ جبالیہ کیمپ میں ایک بلڈنگ کو لگی تھی۔ جس پر شدید محاصرے کی وجہ سے بروقت کنٹرول نہ کیا جاسکا۔ نتیجتاً بھاری جانی نقصان ہو گیا۔
غزہ کے شہری دفاع کے یونٹ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ آگ سے جھلس کر مرنے والوں کی مجموعی تعداد 21 کی تصدیق کی ہے۔ انڈونیشیا کی طرف سے قائم کیے گئے ایک مقامی ہسپتال کے انتظامی سربراہ صالح ابو لیلیٰ کے مطابق آگ سے جھلسی ہوئی آنے والی لاشوں میں سے کم از کم سات بچوں کی لاشیں بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب عمارات میں آگ لگنے کی وجوہات ابھی کنفرم نہیں ہو سکی ہیں۔ البتہ شہری دفاع کی یونٹ کے سربراہ کے بقول گھر میں سردیوں کے لیے ایندھن ذخیرہ کیا جا رہا تھا کہ اس دوران آگ بھڑک اٹھی۔
فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے آگ پر قابو پانے اور متاثرہ افراد کے لیے مدد کی پیش کش کی گئی ہے۔ اس بارے میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اتھارٹی کو ہدایات جاری کی ہیں کہ طبی و دیگر ہر نوعیت کی مدد فوری طور پر غزہ بھجوائی جائے۔