اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے چھ رکنی جنگی کابینہ کو تحلیل کر دیا ہے۔ یہ ایسا فیصلہ ہے جو حزبِ اختلاف کے اہم رہنما بینی گینٹز اور ان کے اتحادی گادی آئزنکوٹ کے کابینہ چھوڑ جانے کے بعد متوقع تھا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اب حماس کے ساتھ غزہ میں جاری جنگ کے متعلق حساس معاملات کے فیصلہ کم سطح کا ایک فورم کرے گا۔
آٹھ دن قبل گینٹز نے جنگ کے لیے حکمت عملی کے فقدان پر استعفیٰ دیا تھا اور تب سے انتہائی دائیں بازو کے وزرا کی جانب سے ان کی جگہ لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
نتن یاہو کو اپنے ملک کے اندر حکومتی اور بین الاقوامی اتحادیوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کابینہ کی تحلیل سے انھوں نے ایک مشکل صورتحال سے نکلنے کی کوشش کی ہے۔اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس سے چین آف کمانڈ متاثر نہیں ہوگی۔
گینٹز اور آئزنکوٹ نے اکتوبر میں جنگ شروع ہونے کے چند دن بعد نتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کے ساتھ قومی اتحاد کے لیے بننے والی حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی۔
گینٹز اور آئزنکوٹ دونوں آئی ڈی ایف کے سابق چیفس آف سٹاف رہے ہیں۔ دونوں نے 9 جون کو اپنے استعفوں کا اعلان کیا تھا۔استعفے کا اعلان کرتے ہوئے گینٹز نے کہا تھا کہ وزیر اعظم کی قیادت ہمیں حقیقی فتح تک پہنچنے سے روک رہی ہے۔
اس کے فوراً بعد انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے کہا کہ انھوں نے نتن یاہو کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ انھیں جنگی کابینہ میں شامل کیا جائے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اتوار کی رات نتن یاہو نے مبینہ طور پر وزرا کو اطلاع دی کہ انھوں نے نئے ارکان کو شامل کرنے کے بجائے کابینہ تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یروشلم پوسٹ کے مطابق گینٹز کو جنگی کابینہ میں ان کی درخواست پر شامل کیا گیا تھا اور ان کے ساتھ اتحاد کا معاہدہ تھا۔ ’گینٹز کے استعفے کے بعد اب کابینہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘