انقرہ: ترکی کے زیر کنٹرول شمالی شام کےعلاقے میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ترکی کی وزارت دفاع نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ ’’حملہ شہر راس العین کے مغرب میں واقع گاؤں طل حلف میں کیا گیا، جو اکتوبر میں ترک فوج کے آپریشن کے بعد سے اس کے زیر کنٹرول ہے۔‘‘
جائے وقوع کی تصاویر میں دیکھا گیا کہ گاؤں کی مارکیٹ میں دھماکے سے کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔دھماکے کی ذمہ داری کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) پر عائد کی گئی جسے انقرہ کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا شامی گروپ قرار دیتا ہے جس پر 1984 سے ترکی کے خلاف حملوں کو الزام لگایا جاتا ہے۔ترک وزارت دفاع نے ٹوئٹر پر مزید کہا کہ ’’پی کے کے/وائی پی جی دہشت گرد گروپ شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے کار بم دھماکے جاری رکھے ہوئے ہے۔‘‘
Showing a much worse attitude than DAESH, the PKK/YPG terror group continues its car bombings aimed at civilians. The child murderers this time detonated a car bomb in Tel Halef village west of Ras al-Ayn, killing 17 people and wounding more than 20. pic.twitter.com/vaZI15cMg4
— T.C. Millî Savunma Bakanlığı (@tcsavunma) November 26, 2019
بیان میں کہا گیا کہ ’’بچوں کو قتل کرنے والوں نے اس بار راس العین کے مغربی گاؤں طل حلف میں کار بم دھماکہ کیا جس سے سترہ افراد ہلاک اوربیس سے زائد زخمی ہوئے۔‘‘ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے شامی مبصر گروپ نے دھماکے کی تصدیق کی تاہم اس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد گیارہ ہے جس میں تین عام شہری بھی شامل ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
