داعش معاملہ: ملزم اللہ رکھا کی ضمانت عرضداشت پر بحث مکمل، فیصلہ محفوظ

ممبئی:26 دسمبر(ایجنسیز)پاکستانی ممنوع تنظیم لشکر طیبہ کے توسط سے ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کا منصوبہ بنانے کے الزامات کے تحت گرفتار اللہ رکھا ابو بکر منصوری نامی ملزم کی ضمانت عرضداشت پر آج بحث مکمل ہوئی جس کے بعد خصوصی این آئی اے جج نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے معاملے کی سماعت ۱ جنوری تک ملتوی کردی۔ ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے مقرر کردہ وکیل شریف شیخ نے ملزم کی ضمانت عرضداشت پر بحث کرتے ہو ئے خصوصی جج ڈی ای کوٹھلیکر کو بتایا کہ اس معاملے میں حالانکہ این آئی اے اور اے ٹی ایس نے چارج شیٹ داخل کردی ہے لیکن چارج شیٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ واضح ہوتا ہیکہ ملزم کو صرف اور صرف شک اور دیگرملزم کے بیانات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا نیز قانون کی نظر میں ایسے ثبوتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کومزید بتایا کہ استغاثہ نے دعوی کیا ہیکہ ملزم کے قبضہ سے ممنوع اشیاءاور ہتھیار ملے تھے اس کے باوجود استغاثہ نے ملزم کے خلاف آرمس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا ہے البتہ اس پر بے بنیاد الزام عائدکیا کہ وہ پاکستان ٹریننگ کے لیئے جانا چاہتا تھا نیز وہ داعش کا ہم خیال ہے ۔شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان جانا کوئی جرم نہیں ہے اور نہ ہی کسی بھی تنظیم کا ہم خیال ہونا جرم ہے لہذا استغاثہ نے ملزم کو بغیر کسی پختہ اور قانونی طور پر قابل قبول ثبوتوں کے گرفتارکرکے اس کے خلاف مقدمہ قائم کیا ہے۔ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا کردار شفاف ہے اور اس کے خلاف ماضی میں کوئی مقدمہ درج نہیں تھا لہذا اسے ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔اسی درمیان این آئی اے کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے ملزم کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کی مخالفت کی اور عدالت کوبتایا کہ ملزم داعش کا ہم خیال ہے اور اس کے خلاف گواہوں کے بیانات بھی ہیں جس پر عدالت نے سرکاری وکیل سے دریافت کیاکہ آیا ملزم کے خلاف کوئی ڈائرکٹ ثبوت ہے یا نہیں جس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو گول مول جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں ڈائرکٹ ثبوت حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔فریقین کی بحث کے بعد عدالت نے ضمانت عرضداشت پر فیصلہ صادر کرنےکے لیئے ایک جنوری کی تاریخ طئے کی۔دوران کارروائی عدالت میں جمعیة علماءکی جانب سے ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ و دیگر موجود تھے۔آج کی عدالتی کارروائی کے بعد جمعیة علماءقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ جس طرح سرکاری وکیل نے دفاعی وکیل شریف شیخ کی بحث کا گول مول جواب دیا ہے ، ملزم کی ضمانت پر رہائی کی امیدیں بڑھی ہے نیز انہیں امید ہیکہ عدالت پختہ ثبوت وشواہد کی روشنی میں ملزم کی ضمانت عرضداشت پر فیصلہ صادر کریگی۔واضح رہے کہ گذشتہ دنوں تحقیقاتی دستوں نے ملزمین فیصل مرزا ور اللہ رکھا کو داعش کے ہم خیال اور ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے کا منصوبہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا تھا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading