جلتے گھر کو دیکھنے والو پھوس کا چھپر آپ کا ہے

جلتے گھرکودیکھنے والو،پھوس کا چھپرآپ کاہے!

خالدانورپورنوی المظاہری

(11 جولائی) ہندوستان کے سب سے بڑے ایوان میں پھرسے وہی راج نیتی ہونے لگی ہے، تین طلاق،تین طلاق، تین طلاق اوراس کے ذریعہ مسلم خواتین کو انصاف دلانے کی قسمیں بھی کھائی جارہی ہیں،اسٹیج سے لے کر سنسد تک، ہرجگہ برسراقتدار پارٹی کے لوگ عورتوں کے حقوق وآزادی کی بات کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں، ”تین طلاق پر تین سال کی سزا“والاظالمانہ قانون بھی مودی جی ایسے پیش کررہے ہیں کہ وہ گویا عورتوں کے سب سے بڑے مسیحا ہیں، معاملہ اورموقع کچھ بھی ہو،ان کے بھاشنوں میں اس کاذکرضروری ہے کہ:”مسلم عورتوں پرظلم ہونے نہیں دیں گے“؛مگرافسوس اس وقت ہوتاہے جب مرکزاورریاست دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت کے باوجودشادی کے صرف دوماہ بعدایک مسلم عورت کو وِدْھوابنادیاجاتاہے،یعنی اس کے سہاگ کاخون کردیا جاتاہے۔
ہم نے سناتھاکہ جنگلوں میں وحشی درندے اورچیڑ پھاڑ کرنے والے جانوررہتے ہیں،جواپنے بھوک کو مٹانے اورپیٹ کی آگ کوبجھانے کیلئے جنگل کے ہی جانو رو ں کاشکارکرلیتے ہیں،لیکن انسانوں کی بستی میں انسان نمادرندے بھی ہوتے ہیں جو جئے شری رام کانعرہ لگاکر تبریزانصاری جیسے 24/سال کے ایک نوجوان کاخون کردیتے ہیں،ایسابہت کم سناتھا،مگراب دیکھ رہے ہیں،اورشایدسیاسی پارٹیوں کے نفرت بھرے ماحول کی کاشت کاری کی وجہ سے ابھی اوربھی بہت کچھ دیکھنااورسنناپڑسکتاہے۔
2014ء سے لینچنگ کی کہانی شروع ہوئی،تبریزانصاری کانمبرانیسواں ہے،یعنی 19/لوگ اب تک ہجومی تشددکاشکارہوچکے ہیں،ان کی عورتیں بیوہ،اوربچے یتیم ہوچکے ہیں،لیکن ایوانِ بالامیں کبھی اس پربحث نہیں ہوئی،اورنہ ہی اس کے روک تھام کیلئے قانون سازی اوراس کے عملی نفاذکی بات ہوئی،کیااس سے یہ نہ سمجھاجائے کہ یہ سب کچھ ایک مضبوط پلان کے تحت ہورہاہے۔
تبریزانصاری محض 24/سال کاایک نوجوان ہے،27/اپریل2019ء کواس کی شادی ہوتی ہے، شادی کے محض دوماہ بعدہجومی تشددکے ذریعہ انہیں ماردیاجاتاہے،بلاکسی جرم کے ایک بھیڑجمع ہوتی ہے، انہیں رسی سے باندھ دیاجاتاہے،چاروں طرف سے لاٹھیوں اورڈنڈوں کی برسات ہوتی ہے،نام پوچھا جاتا ہے،وہ کہتاہے کہ: میں سونوانصاری ہوں،لیکن ہجومی تشددکرنے والے غنڈوں اوردہشت گردوں کی طرف سے کہاجاتاہیتم اپنا اوریجنل نام بتاؤ،وہ کہتاہے: میرانام تبریزانصاری ہے،پھران کی پٹائی شروع ہوتی ہے،انہیں جئے شری رام بولنے پرمجبورکیاجاتاہے،پولس والے آتے ہیں،ان کی موجودگی میں ظلم وزیادتی کے سارے واقعات انجام پذیر ہوتے ہیں،قانون کے محافظ بھی قاتل وخونخواردرندے بن جاتے ہیں،وہ وردی جوانہیں ملک اورملک کے آئین کی سلامتی کیلئے دی گئی ہے،امن کی بحالی اورغنڈہ گردی کے خاتمہ کیلئے انہوں نے حلف بھی لیاتھا، مگر تبریز انصاری کے گھروالوں نے یہ تماشہ بھی دیکھاکہ تھانہ سے آئے ہوئے انسانوں کے محافظ دستے قتلِ انسانیت میں حصہ دار بن جاتے ہیں،اور پھر وہاں سے سرائے کیلاتھانہ کے لوکپ میں تبریز کو ڈال دیاجاتاہے۔
یہ واقعہ17/جون کاہے،تبریزانصاری کے لوگ تھانہ پہونچتے ہیں،ان کی بیوی شائستہ،ماں، چچا،اور دوسرے احباب موجودہیں،ان کے چچاتھانہ سے رہائی کی درخواست کرتے ہیں،تھانہ کا ایس آیو بولتا ہے:یہاں سے بھاگو، نہیں تو تم کو بھی ماردیں گے،وہاں موجود پپومنڈل کہتاہے:یہ ابھی تک زندہ کیسے ہے؟ تھانہ کے لوگوں،سپاہیوں کو اس بات کادکھ ہے کہ تبریز انصاری کی اتنی پٹائی ہوئی ہے؛ مگراب تک زندہ کیوں ہے؟اس سے سمجھ میں آتاہے کہ ہجومی تشددکے ذریعہ قتل وخون ریزی کے جو بھی واقعات سامنے میں آتے ہیں،وہ پری پلان کا یقینا حصہ ہے!
تھانہ سے آزادی کی ساری کوششیں ضائع ہوگئیں،اور نہ ہی انہیں علاج کے لئے اسپتال ریفر کیاگیا، تبریز کے گھروالوں کے مطالبات کو سننے والاکوئی نہ تھا،یہ لوگ روتے،بلکتے،گھرآئے،مشورہ اور بات چیت شروع کی،اسی بیچ پتہ چلتاہے کہ تبریز کو جیل بھیج دیاگیاہے،گھر والے دوڑے،دوڑے آئے،دیکھتاہے: تبریزمیں اتنی بھی طاقت نہیں ہے کہ وہ چل سکے،دوپولیس والوں کے سہارہ سے انہیں لایاگیا،وہ بار باررحم کی بھیک مانگتاتھاکہ انہیں اسپتال میں داخل کرایاجائے؛لیکن افسوس یہ ہے کہ ظالموں نے ایک بھی نہ سنی۔
22/جون کوصدر اسپتال میں داخل کیاگیا،تبریزانصاری کے گھروالے اسپتال پہونچے،ایک گھنٹہ کے بعد اندرجانے کی اجازت ملتی ہے،ان کے چچامقصود کو بلایاجاتاہے:ڈاکٹر پوچھتاہے:آپ کون ہیں،یہ کہتے ہیں: میں ان کا چچاہوں،وہ دیکھتے ہیں کہ:تبریز کو ایک چادرسے ڈھاک دیاگیاہے،ڈاکٹر کہتا ہے: تبریزاب اس دنیامیں نہیں رہا،وہ باہر آتاہے،ان کے دوست واحباب اندرجانے کی کوشش کرتے ہیں،مگر ساڑھے گیارہ بجے اندر جانے کی اجازت ملتی ہے،یہ لوگ یہ دیکھ کرحیران رہ جاتے ہیں کہ ان کے ناک میں جھاگ بہہ رہا ہے،ان کی سانسیں ابھی بھی چل رہی ہیں،ECGٹیسٹ کرایاجاتاہے، توپتہ چلتاہے ابھی تبریززندہ ہے،گھروالوں کے ہنگامہ اور اصرارپر آکسیجن لگایاجاتاہے،یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ جمشید پور ”D,M,H“اسپتال میں داخل کرایا جائے،مگر وہ لوگ کسی اور اسپتال کے بارے میں بضدہیں،کسی طرح تیاربھی ہوئے؛لیکن ایمبولینس کے بجائے ایک ایسی سومو گاڑی فراہم کرائی، جس کاڈرائیوربھی اس میں برابرکاشریک نظرآیا،تاخیر سے ہی سہی،اسپتال پہونچا،مگر ECGٹیسٹ نے واضح کردیا:کہ اب تبریز اس دنیامیں نہیں رہا۔اناللّٰہ واناالیہ راجعون
یہ کوئی گھڑی ہوئی کہانی نہیں ہے؛ بلکہ تبریزانصاری کے چچانے جوکچھ بیان کیاہے،اس کاایک حصہ ہے، ورنہ تبریزاگرزندہ ہوتاتو بہت سی حقیقتیں سامنے آتیں،شایداسی لئے وہ زندہ نہ رہے اس کی ساری کوششیں کی گئیں، تھانہ سے لیکرجیل تک،جیل سے لیکراسپتال تک سب کی ملی بھگت سے تبریزکی موت ہوئی،مگراس کی روح ہم دنیا والوں اورانصاف پسند شہریوں سے ایک ہی سوال کررہی ہے،میراجرم کیاتھا؟میراجرم کیاتھا؟میراجرم کیاتھا؟
ہجومی تشدداورلینچنگ کے واقعات اس ملک میں پیش آتے ہیں،جہاں قانون کی بالادستی ختم ہوجاتی ہے، غنڈوں اورڈاکوؤں کاراج ہوتاہے،وہ کسی خوف کی پرواہ کئے بغیرجسے چاہتے ہیں مارڈالتے ہیں،اس ملک کی تازہ ترین صورت حال اگر ایسی ہے،تو سوچنے اور سمجھنے کا مقام ہے، ہندوستانی مسلمانوں، اقلیتوں، مظلوموں اوردوسرے برادران وطن کے انصاف پسندشہریوں کیلئے ضروری ہوگیاہے کہ مرکزی،ریاستی حکومتوں کے اعلیٰ،ادنیٰ،افسروں،تھانہ،کورٹ،کچہری کے ذمہ داروں،پولس وداروغہ اورقانون کے محافظوں سے میٹنگیں کریں،اورپوچھیں، کہ آپ کیاچاہتے ہیں؟ظلم کاخاتمہ یاپھرجنگل کاراج عملی نفاذ؟ اس لئے کہ حکومت کیلئے کسی طرح کے جرائم پر کنٹرول کچھ بھی مشکل نہیں ہے!
تبریز انصاری کے اس واقعہ پر گہرائی سے نظر ڈالیں،توقاتلوں کاچہرہ صاف نظرآنے لگتاہے،دھمکی ڈیہیہ گاؤں کے وہ لوگ قاتل ہیں،جوتبریز کو ماررہے تھے،اور وہ لوگ بھی جو تماشہ بیں تھے،سرائے کیلاتھانہ کی پولیس، جیلر، اسپتال کے ڈاکٹر،سبھی لوگ قانون کے اعتبارسے مجرم اورقاتل ہیں،ہمیں چاہئے کہ ہم تمام انصاف پسندشہریوں کو ساتھ لے کرتبریز انصاری کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہونچائیں،بہت ہی مضبوط، منظم،اور پلان کے تحت قانونی لڑائی لڑیں،اس لئے کہ یہ ہمارابنیادی،جمہوری اور دستوری حق ہے،امن کی بحالی کیلئے ظالموں کو سزاملناضروری ہے،اس کے بغیر امن وشانتی کا تصور ممکن نہیں ہوسکتاہے،اگر آج تبریزکاقتل ہواہے تو اس کے زدمیں کوئی اور بھی آسکتے ہیں،بقول ڈاکٹر نواز دیوبندی:
جلتے گھر کو دیکھنے والو،پھوس کا چھپر آپ کا ہے
=
آگ کے پیچھے تیز ہواہے،آگے مقدرآپ کا ہے
اس کے قتل پہ میں بھی چپ تھا،میرانمبراب آیا
=
میرے قتل پہ آپ بھی چپ ہیں،اگلانمبرآپ کاہے
تبریز انصاری کی شہادت کے بعد سے مسلسل پوراملک سراپا احتجاج بناہواہے،یہ اچھی خبرہے،اوراس ملک کے تحفظ کیلئے یہ بھی ضروری ہے،خوشی کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ دیگر برادران وطن بھی ظلم کے خلاف اس جنگ میں،ہمارے ساتھ برابر کے شریک ہیں،اور اپنے بیانوں،اپیلوں کے ذریعہ بھی تبریز انصاری جیسے مظلوموں کوانصاف دلانے اور ظالموں کے پنجہ ظلم واستبداد کوتوڑنے کیلئے وہ ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار نظرآرہے ہیں، لیکن ہم اپنے پرامن احتجاج میں اپنے عمل،قول وفعل کے ذریعہ یہ تاثر ہرگز نہ دیں کہ یہ لڑائی ہندوبنام مسلم ہے؛بلکہ اپنی صفوں میں انہیں بھی شامل کریں اور یہ واضح کردیں کہ یہ لڑائی ظلم کے خلاف ہے اور انسانیت کو بچانے کیلئے ہے۔
رام ہمارے لئے قابل احترام ہیں،جولوگ جئے شری رام کا نعرہ لگاکر انسانوں کوماررہے ہیں، حقیقت میں وہ رام کے ماننے والے نہیں ہیں اور ایساکرنے والے مٹھی بھر لوگ ہیں،اورانہی کی وجہ سے اس ملک کاامن وامان تباہ ہوکررہ گیاہے،اس کے پیچھے سیاسی طاقتوں کی سیاست بھی کارفرماہے،پھوٹ ڈالواورحکومت کروکے اصول پرچلنے کی منصوبہ بندکوشش بھی ہے،ایسے میں ہمیں بہت ہی سوچ، سمجھ کرقدم اٹھانے کی ضرورت ہے،صرف جذبات،اشتعال انگیزی سے ہمارے لئے مزیدمصائب کے دروازے کھل سکتے ہیں،بہت ہی دانشمندانہ فیصلہ لینے کی ضرورت ہے؛مگرہرحالت میں اپنے اسلام اورتعلیمات اسلام پرمضبوطی سے قائم رہئے،حوصلہ منداورباہمت رہئے،اپنے صفوں میں طاقت پیداکیجئے،اپنی حفاظت خودکیجئے،اتحادواتفاق کی ایسی خوبصورت مثال قائم کیجئے کہ شیشہ پلائی دیواربن جائیے،جہاں بھی رئیے،جہاں بھی جائیے ایک دوسرے سے باہم مربوط ومظبوط رہئے،اورآخری بات یہ کہ بزدلی کے خول سے باہرنکلئے۔
یادرکھئے!موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے،مرنے سے کبھی مت گھبرائیے،جوبے وجہ آپ کوزودکوب کر رہے ہیں،وہ اسلام کی نظرمیں بھی اورہندوستانی آئین کے مطابق بھی مجرم ہے،اس سے رحم کی بھیک مانگنا لاحاصل ہے،بلکہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق بھی اس کا علاج کرنے اوردفاعی اقدام کی بھی اجازت ہے،اورہونابھی چائیے کیونکہ جرم کرنے والوں کوجب تک اپنی جان کاخوف نہیں ہوگاوہ لوگ جرم سے بازنہیں آئیں گے۔
لیکن یادرکھئے!دعوت دین ہمارے لئے سب سے بنیادی چیزہے،اپنے عمل،اخلاق،کرداراورکیرکٹرکے ذریعہ اسلام کی بہترشبیہ کوپیش کرناضروری ہے،اللہ کے رسول ﷺنے جس طرح سرزمینِ مکہ میں سوشل ورک اورسماجی رابطہ مہم کے ذریعہ دوسروں کے دلوں پرقبضہ کیاہے،اس کی ضرورت آج مزیدبڑھ گئی ہے،اس پرعمل کرکے سماج میں انقلاب آئیگا۔اس کے بالمقابل اگر کھانا،پینا،سونااور کماناہی اپنی زندگی کاہم نے نصب العین بنالیاتو پھر آنے والے طوفانوں کامقابلہ کرنااتناآسان نہیں ہے۔”شایدکہ اترجائے تیرے دل میں میری بات“

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading