ترکی طالبان رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے راضی، طالبان کی جانب سے تجارت روکے جانے کے انڈین دعوے کی تردید

انڈیا نے کہا ہے کہ طالبان نے سرحد پار تجارت بند کر دی ہے جس کے لیے پاکستان کے زمینی راستے استعمال ہوتے ہیں، تاہم طالبان نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنھوں نے کسی ملک کے ساتھ تجارت بند نہیں کی ہے۔

امریکہ نے اپنے ملک میں موجود افغانستان کی قومی دولت کو منجمد کر دیا ہے جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان کو دی جانے والی امداد معطل کر رہے ہیں۔

طالبان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز سے لے کر جمعرات تک کابل ایئرپورٹ اور اس کے اطراف میں اب تک 12 اموات ہوئی ہیں۔القاعدہ کی یمن میں کام کرنے والی شاخ نے طالبان کو افغانستان پر قبضہ کرنے کی مبارک باد دی ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

افغانستان کی قومی مصالحت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے بدھ کی شب خلیل الرحمان حقانی سمیت طالبان کے وفد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سابق صدر حامد کرزئی اور دیگر اعلیٰ عہدے داران بھی موجود تھے۔عبداللہ عبداللہ کے مطابق اس ملاقات میں افغانستان کے عوام کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ترکی نے کہا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے باوجود ترکی نہ صرف امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کا دفاع کرنے بلکہ طالبان رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading