بنگلہ دیش کے سیاسی حالات اور بھارت کو درپیش چیلنجز

بھارت کے سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش میں تبدیل ہوتی سیاسی صورتحال سے سب سے بڑا نقصان بھارت کو ہو سکتا ہے، جس نے شیخ حسینہ کی حمایت میں سب کچھ داؤ پر لگا دیا، تاہم پھر بھی انہیں بچا نہ سکا۔

بنگلہ دیش میں ہونے والی سیاسی افراتفری اور اس کے نتائج پر شاید سب سے زیادہ بحث بھارت میں ہو رہی ہے، جہاں شیخ حسینہ فرار ہو کر پہنچی ہیں۔ بعض حلقے شیخ حسینہ کو بھارت میں سیاسی پناہ دینے کی بھی یہ کہہ کر وکالت کر رہے ہیں کہ وہ بھارت کی حلیف ہیں اور انہیں پناہ نہ دینے سے ایک غلط پیغام جائے گا۔

بھارتی میڈيا میں کئی سازشی نظریات بھی گردش میں ہیں، جس میں بنگلہ دیش کی سیاسی اتھل پتھل کی ذمہ داری پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر ڈالی جا رہی ہے، تو کوئی پاکستان کی جماعت اسلامی کا ہاتھ ہونے کی بات کر رہا ہے۔ کوئی اس میں چین کی سازش تو امریکہ کے مفاد کی بھی بات کر رہا ہے۔

البتہ بھارت میں شیخ حسینہ کی موجودگی، نئی دہلی کے لیے ایک سفارتی چیلنج اور حکومت کے لیے درد سر سے کم نہیں ہے۔ بھارت کی ایک گہری دوست اچانک ملک کے لیے بغیر دعوت کے مہمان بن گئی ہیں۔

بنگلہ دیش کے اصل مسائل اب شروع ہوئے ہیں!

بہت سے سیاسی تجزیہ کار اسے بھارتی خارجہ پالیسی اور خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں اقتدار کی تبدیلی سے بھارت کو کافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بھارت کی خارجہ پالیسی پر تنقید

کولکتہ میں سینیئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار شبھو جیت بگچی کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ ایک طرح سے بھارتی مفادات کی محافظ تھیں، اس لیے ان کا اقتدار میں نہ رہنا "بھارت کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔”

وہ اس حوالے سے حکومت کی خارجہ پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھارت نے اپنی پوری طاقت شیخ حسینہ کی حمایت میں جھونک دی اور انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آیا کہ عوام کا رجحان کیا ہے۔

شیخ حسینہ کے متعلق ابھی کچھ بھی طے نہیں ہوا ہے، بھارت

ڈی ڈبلیو اردو سے خاص بات چیت میں انہوں نے کہا، "آپ کے پاس دس انڈے تھے ان سب کو آپ نے ایک ہی ٹوکری میں رکھ دیا اور بنگلہ دیش کے عوام کو بھی یہی میسج گیا کہ نئی دہلی ڈھاکہ کا نہیں بلکہ عوامی لیگ کی کا حامی ہے۔”

بنگلہ دیش: فوج کی قیادت یا حمایت والی حکومت قبول نہیں، طلبہ رہنما

انہوں نے مزید کہا، "بنگلہ دیش میں یہ سگنل گیا کہ بھارت شیخ حسینہ اور عوامی لیگ کے ساتھ ہے، بنگلہ دیش کے ساتھ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے فی الوقت بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف شدید غم و غصہ بھی پایا جاتا ہے۔”

دہلی میں مقیم سرکردہ صحافی سنجے کپور بھی اس سے متفق ہیں۔ ڈي ڈبلیو اردو سے خاص بات چیت میں انہوں نے کہا، "فی الوقت تو یہ بہت پریشانی کی بات ہے کہ اتنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔ بھارت نے انہیں وزارت عظمی کے عہدے پر برقرار رکھنے کی بھی تمام کوششیں کیں، تاہم انہیں بچا نہ سکا اور اس کی تمام کوششیں رائیگاں ہو گئیں۔”

بنگلہ دیشی وزیراعظم پندرہ دنوں کے اندر دوسری مرتبہ بھارت میں

ان کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں رواں برس جنوری میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں سب کو معلوم تھا کہ "یہ یکطرفہ ہیں، تاہم بھارت نے کچھ بھی نہیں کیا، خاموش رہا، بلکہ بھارتی الیکشن کمیشن وہاں گیا اور اس نے انتخابات کے شفاف ہونے کا سرٹیفیکٹ بھی دے دیا۔ یہ تو اپنے ساتھ بھی بہت بڑی زیادتی تھی۔”

البتہ سنجے کپور کہتے ہیں کہ مودی حکومت کو اس بات کا خوف تھا کہ صورتحال بدتر بھی سکتی ہے، اس لیے "ایک دو بار حسینہ کو اپوزیشن کو ساتھ لینے کا مشورہ بھی دیا، تاہم انہوں نے بھارت کی اس بات کو سنا تک نہیں۔۔۔۔۔ پھر جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا۔”

بھارت کو کس طرح کا نقصان ہو سکتا ہے؟
شبھو جیت بگچی کہتے ہیں بنگلہ دیش کی آزادی کے دور سے ہی بھارت کے عوامی ليگ پارٹی سے گہرے تعلقات رہے ہیں، اسی لیے شیخ حسینہ کے اقتدار میں رہتے ہوئے اسے ایڈوانٹیج حاصل رہتا ہے۔
وہ کہتے ہیں، "چونکہ یہ تعلقات اعتماد اور وقت کی کسوٹی پر جانچے پرکھے تھے۔۔۔۔۔ بھارت کا انحصار بھی پوری طرح سے ان پر ہی تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب سن 2001 سے دو ہزار چھ کے درمیان بی این پی اور جماعت اسلامی کی حکومت تھی، تو بھارت کو بڑے مسائل کا سامنا رہا تھا۔ اس لحاظ سے بھارت کے لیے یہ ایک بڑا نقصان ہے۔”

بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان ایک طویل سرحد ہے، جس سے متصل بھارت کی متعدد شمال مشرقی ریاستوں کو علیحدگی پسندوں کی جانب سے شورش کا سامنا رہا ہے۔ بگچی کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے "بھارت کی سکیورٹی کا بھی اہم مسئلہ تھا۔ لیکن جب سے شیخ حسینہ اقتدار میں آئیں، حالات بہتر ہو گئے، انہوں نے بھارتی مفادات کو تحفظ فراہم کیا۔”

تاہم وہ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ہی "عوامی لیگ کی حکومت کا طرز حکومت آمرانہ ہوتا چلا گیا اور "المیہ یہ رہا کہ پھر بھی بھارت ان کی حکومت کی حمایت کرتا رہا۔ ۔۔۔ اب نئی صورتحال میں بھارت کے لیے ایک چیلنج ہے۔”

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading