مالیگاؤں /این آر سی کے خلاف عوام میں کس قدر بے اطمینانی ہے اسے ظاہر کرنے کے لیے چیف جسٹس آف انڈیا کے پاس عوامی دستخط سے اپنے مطالبات پہنچانے کے مقصد سے رضا اکیڈمی، آل انڈیا سنی جمیعتہ العلماء، جمیعت علمائے اہلسنت اور دیگر سرکردہ تنظیموں کی جانب سے دستخطی مہم کا جو اعلان ممبئی سے ہوا، اس کا اچھا خاصا اثر مالیگاؤں میں بھی دیکھا گیا، اس ضمن میں رضا اکیڈمی مالیگاؤں کے صدر ڈاکٹر رئیس احمد رضوی نے بتایا کہ مالیگاؤں سے کم از کم دو لاکھ دستخطیں جمع کرنے کا عزم ہے، جس کے لیے دس ہزار سے زائد فارم چھپائے گئے ہیں، ایک لاکھ کے قریب دستخطیں تو جمع ہوچکی ہیں، اندرون ایک دو یوم جب شہر بھر میں تقسیم کیے گئے فارم جمع کیے جائیں گے تو ان شاء اللہ دو لاکھ دستخطوں کے اپنے ٹارگٹ کو ہم پورا کر لیں گے،
صدیقی شہزاد نے کہا کہ نماز جمعہ سے قبل مساجد میں سید معین میاں اشرفی الجیلانی اور الحاج محمد سعید نوری کی اپیل پر علماء و ائمہ کرام نے این آر سی کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے اس دستخطی مہم کی اہمیت بتائی، جس کے بعد نوجوانوں کے جوش وخروش میں بہت زیادہ اضافہ ہوا اور شہر کے مختلف علاقوں کے طلبا و نوجوانوں نے دفتر رضا اکیڈمی پر دستخطی فارم کے حصول کے لیے رابطہ قائم کرتے ہوئے اس مہم میں عملی شمولیت اختیار کی،
سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دستخطی مہم سے متعلق اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے غلام فرید نے کہا کہ اس دستخطی مہم میں نام و دستخط کے ساتھ موبائل نمبرات لکھنے کا بھی خاص اہتمام کیا جارہا ہے، رضوی سلیم شہزاد نے بتایا کہ 10 جنوری جمعہ کو ملک گیر سطح پر دستخطی مہم کا جو اعلان ممبئی سے رضا اکیڈمی، آل انڈیا سنی جمیعتہ العلماء اور جمعیت علمائے اسلام جیسی سرکردہ مسلم تنظیموں کی جانب سے کیا گیا تھا اس کے تحت ممبئی ناسک سمیت ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی دستخطیں جمع کی گئی
ہیں، اتوار کی شب دستخط شدہ تمام فارم ممبئی کے لیے روانہ کیے جائیں گے، الطاف تابانی، حافظ شریف رضوی، امتیاز خورشید اور حاجی محمد رضوی کو آس پاس کے شہروں اور علاقوں سے دستخط شدہ فارم جمع کر نے کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں. اس مہم میں شہر کے درجنوں اداروں، بزموں اور کلبوں نے اپنا بھرپور تعاون دیا، ان میں نظامیہ اشرفیہ فاؤنڈیشن(صادق حسین اشرفی و احباب)، علامہ عسجد رضا فاؤنڈیشن (مدثر رضا جیلانی و احباب)، سنی کاؤنسل (عمران رضوی و احباب)، مسجد سعید الہیہ، (مولانا احمد رضا ازہری و انتظامیہ کمیٹی)، بڑی مسجد مفتی اعظم، (مولانا عبداللہ حنفی و انتظامیہ کمیٹی)، مسجد بانو مریم قطب الدین، (حافظ مزمل حسین رضوی و انتظامیہ کمیٹی)، مسجد رقیہ حجن، (حافظ رفیق القادری و انتظامیہ کمیٹی)، مسجد فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ، (حافظ ذوالفقار رضا و انتظامیہ کمیٹی)، مسجد علامہ حامد رضا، (حافظ جعفر القادری)، ادارہء ناصرانِ اہلِ بیت، (نوری ٹاور)، ادارہء سید شاہ داد رحمۃ اللہ علیہ، (مچھلی بازار)، ادارہء حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، انصار روڈ (منا فٹر)، ادارہء انصار، (ذاکر انصاری ہوٹل والا)، مسجد نوری عارج خلیل، (حافظ عمر فاروق)، مسجد نورالاسلام، (سلیم نگر)، مسجد گلشنِ امام احمد رضا، (ہڈکو کالونی)، مسجد خانقاہِ قادریہ، (مفتی عرفان رضا مصباحی)، مسجد صدر الشریعہ، (مفتی نعیم رضا مصباحی)، اعلی حضرت فاؤنڈیشن، (مدثر رضا ازہری)، محمد یوسف رانا، (ادارہء نشانِ ہند)، مسجد حلیمہ حشمتی، (حافظ نوید رضا)، مسجد زینب بہار اشرفی (حافظ توصیف اشرفی)، مسجد زیتون اشرفی، (مولانا سلمان رضا)، خانقاہ مسجد برکت پورہ، (حاجی شبیر احمد پنجابی)، مسجد حاجی دوست محمد (حافظ شاہد رضوی)، مدو بابا مسجد (حافظ اظہار رضوی) وغیرہ شامل ہیں.
اب تک جن لوگوں نے اس کالے قانون کے خلاف اپنے جمہوری حق کا استعمال نہیں کیا ہے ایسے شہریان ان مقامات پر ذمہ داران سے رابطہ کریں، خود بھی دستخط کریں، اپنے احباب اور اہلِ خانہ سے بھی دستخط کروائیں اور این آر سی، این پی آر و سی اے اے کے خلاف اس دستخطی مہم کو آگے بڑھائیں، اس طرح کی گزارش رضا اکیڈمی کی جانب سے کی گئی ہے. اسی طرح جو ادارے، کلبیں ،مساجد و مدارس کے ذمہ داران اور نوجوان اس دستخطی مہم میں اپنی خدمات پیش کرنا چاہتے ہیں وہ دفتر رضا اکیڈمی سے فارم حاصل کرسکتے ہیں. واضح رہے کہ یہ تمام دستخط شدہ فارم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا کو اپنے مطالبات کے ساتھ روانہ کئے جائیں گے.