امریکہ کا تہران کی فضائی دفاعی صلاحیت ’زمین بوس‘ کرنے کا دعویٰ
تہران /واشنگٹن:(ایجنسیز)ایران نے کہا ہے کہ اگر اس کی توانائی کی تنصیبات کو مزید نشانہ بنایا گیا تو وہ خلیج میں امریکی اور اسرائیلی اتحادیوں کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ‘مکمل طور پر تباہ’ کرنے تک حملہ کرے گا۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ جمعرات کو ایران کے خلاف حملے کا سب سے بڑا ’سٹرائیک پیکج‘ ہو گا۔ایران نے کہا ہے کہ اگر اس کی توانائی کی تنصیبات کو مزید نشانہ بنایا گیا تو وہ خلیج میں امریکی اور اسرائیلی اتحادیوں کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کرنے تک حملہ کرے گا۔اسرائیل کی جانب سے ایران کی پارس گیس فیلڈز پر حملے کے بعد تہران نے خلیجی خطے میں گیس اور تیل کی تنصیبات کے خلاف ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔
پاسدران انقلاب فورس سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی ملٹری سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم دُشمن کو خبردار کرتے ہیں کہ آپ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے۔‘اُن کا کہنا تھا کہ اگر ایسا دہرایا گیا تو آپ کے اور آپ کے اتحادیوں کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر اس کے بعد ہونے والے حملے اُس وقت تک نہیں رُکیں گے جب تک ان کی مکمل تباہی نہیں ہو جاتی۔اُنھوں نے مزید کہا ایرانی ردِعمل اب تک کے حملوں سے ’بہت زیادہ شدید‘ ہو گا۔
ایران نے ہمارے خلاف ’جارحیت‘ کا مظاہرہ کر کے اپنا اعتماد کھو دیا ہے: قطری وزیرِ اعظم
قطر کے وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے کہا ہے کہ راس لفان میں حملہ کر کے ایران نے کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔دوحہ میں ترک وزیرِ خارجہ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے قطری وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ خطے میں ایرانی حملوں کو فوری طور پر رُکنا چاہیے۔سفارت کاری کی گنجائش سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں قطر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس کی گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے اور قطر اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ کسی بھی تنازع کا ’پہلا اور آخری حل‘ سفارت کاری ہی ہے۔لیکن اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم ہروز حملوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور جب قطر کو نشانہ بنایا گیا تو یہ ہمارے لیے بہت بڑا دھچکہ تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ سفارت کاری جارحیت کے بجائے باہمی احترام پر مبنی ہونی چاہیے۔ ایرانیوں پر اعتماد ’اس جارحیت‘ سے تباہ ہو گیا ہے۔قطری وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ جنگ اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی اور ایران نے جوابی کارروائی میں اپنے پڑوسیوں پر حملہ کرنے کا انتخاب کیا۔اس موقع پر ترک وزیر خارجہ حکان فیدان نے کہا ہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے ہماری توجہ فلسطین اور غزہ سے نہیں ہٹنی چاہیے۔اُن کا کہنا تھا کہ اُن کا قطر کا دورہ اظہار یکجہتی کے لیے ہے۔ ہم ان حملوں کی مذمت کرتے ہیں جو شہریوں کی زندگیوں کو نظرانداز کرتے ہیں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں۔
ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے پر غور
ایرانی پارلیمنٹ میں حکومتی نمائندہ سمعیہ رفیعی نے کہا ہے کہ قانون ساز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں۔خبر رساں ادارے ’اسنا‘ کے مطابق رفیعی نے تہران کے والیاسر اسکوائر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس ’آبنائے ہرمز کی حفاظت اور ملکی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے‘ کا پورا اختیار ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنے دشمنوں کو ان کی سابقہ آسائشوں سے محروم کر دیا ہے، اور وہ اب اس حقیقت کو قبول کرنے سے قاصر ہیں۔‘سمعیہ رفیعی کا کہنا تھا کہ ’یہ جنگ ایران کی فیصلہ کن اور یقینی فتح پر ختم ہو گی اور اس کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنا ہمارے دُشمنوں کے لیے چیلنجز کا باعث بنے گا۔‘
وزیراعظم کی فرانس اور عمان سمیت کئی ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت،
دہلی:مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان وزیر اعظم مودی نے جمعرات کو عمان، فرانس، ملیشیا اور اردن کے رہنماؤں سے بات چیت کی۔ گفتگو کے دوران وزیر اعظم مودی نے سفارت کاری اور علاقائی استحکام کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے ساتھ ہوئی بات چیت سے متعلق ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’میں نے اپنے بھائی سلطان ہیثم بن طارق کے ساتھ ایک مفید گفتگو کی اور عمان کے عوام کو پیشگی عید کی مبارکباد دی۔ ہم اس بات پر متفق ہوئے کہ کشیدگی میں کمی اور بعد ازاں امن و استحکام کی بحالی کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ عمان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی ہندوستان کی مذمت کو دہرایا اور ہندوستانی شہریوں سمیت ہزاروں افراد کی بحفاظت واپسی میں عمان کی کوششوں کو سراہا۔ ہندوستان اور عمان آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ اور آزادانہ بحری نقل و حمل کے حامی ہیں۔‘‘