ایران کی سڑکوں پر "اخلاقی پولیس” کی واپسی کی خبریں گردش کرنے لگی ہیں۔ اسی اثنا میں ایک سینئر پولیس اہلکار نے کار مالکان کے لیے لازمی حجاب کے متعلق ٹیکسٹ پیغامات بھی دوبارہ گردش میں آنے کا پتہ دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’’فارس‘‘ نے ایک نامعلوم پولیس افسر کے حوالے سے اتوار کے روز بتایا کہ "نذیر ون منصوبے کا نیا مرحلہ” پورے ایران میں شروع ہو گیا ہے۔
اس ایجنسی کے مطابق اس پلان میں گاڑیوں کے مالکان کو یاد دہانی پر مشتمل ٹیکسٹ پیغامات بھیجے جائیں گے جن میں پردہ کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔
اخلاقی پولیس کی واپسی
’’ایران انٹرنیشنل‘‘ کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا پر رپورٹس تہران کی گلیوں میں "اخلاقی پولیس” کی واپسی کی نشاندہی کر رہی ہیں۔
ایرانی پبلک پراسیکیوٹر محمد جعفر منتظری نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ مہسا امینی کے قتل میں کردار ادا کرنے والی "اخلاقی پولیس” کی سرگرمی کو "معطل” کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے 4 ستمبر 2022 کو ایک بیان میں مزید کہا تھا ’’ارشاد گشت‘‘ کو عدلیہ سے الگ کر دیا گیا ہے۔
نوجوان خاتون کی گرفتاری
لیکن ایک صحافی نے ہفتے کی شام کو ایک ٹویٹ میں لکھا کہ آج رات میں نے ذاتی طور پر دیکھا کہ اخلاقی پولیس نے آزادی اسکوائر کے قریب ایک نوجوان خاتون کو گرفتار کیا۔ چونکہ پولیس صبح سے چوک کے اردگرد موجود ہے اس لیے میں تصویریں لینے سے قاصر تھا۔ دیگر شہروں میں بھی خواتین پر پردے کی پابندی کے حوالے سے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
واضح رہے گذشتہ 16 ستمبر کو اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد کرد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے پس منظر میں ایران میں عوامی احتجاجی مظاہرے اب تک جاری ہیں۔
ان مظاہروں میں عوام حکومت سے ذاتی آزادیوں پر پابندی ختم کرنے اور خواتین کے لباس کے سخت قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، مظاہرین معاشی بحران کے باعث بھی حکومت کے خلاف سڑکوں پر موجود ہیں۔
ایرانی حکومت کی جانب سے ان مظاہروں کو بزور طاقت کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس دوران 400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔