نیو یارک: امریکی خفیہ ایجنسیوں نے ممبئی بم دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کا پتہ لگانے کے لئے پاکستانی تاجروں کی مدد لی تھی ۔ امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے) اور سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے اقوام متحدہ کی تنظیم کے ذریعہ دہشت گرد قرار دئیے گئے بھگوڑے داؤد کے ٹھکانے کے بارے میں لاہور کے سونے کے تاجر محمد آصف حفیظ سے پوچھ گچھ کی تھی ۔
حافظ کے وکیلوں نے برطانوی ہائی کورٹ کے جسٹس کو پیش کی گئی دستاویزات میں دعویٰ کیا ہے کہ ڈی ای اے اور سی آئی اے ایجنٹوں نے 2014 سے 2017 کے درمیان دبئی میں حفیظ سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے داؤد ابراہیم ، 1993 ممبئی دھماکوں ، تورا بورا ، طالبان اور داؤد کے اس وقت ٹھکانے کے بارے میں پوچھ گچھ کی تھی ۔
دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق ، امریکی ایجنٹوں نے داؤد کا پتہ لگانے کے لئے ایک پاکستانی سونے کے تاجر سے مدد مانگی ،تو حفیظ نے دائود سے جان پہچان کی بات کا تو اعتراف کر لیا ، لیکن طالبان اور افغانستان کے بارے میں کسی قسم کی معلومات ہونے سے انکار کر دیاتھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور داؤد دونوں دبئی میں سونے کا کاروبار کرتے تھے اور آس پاس کے باکس میں بیٹھ کر کرکٹ میچ دیکھتے تھے۔ لیکن بعد میں داؤد نے دبئی چھوڑ دیاتھا ، ا سکے بعد سے دونوں کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ، حفیظ نے امریکی ایجنٹوں کو بتایا کہ داؤد دبئی میں رہتے ہوئے بالی وڈ سے وابستہ تقریبات میں پہلی صف میں بیٹھتا تھا۔ اس دوران ، کسی بھی پرفارمنس سے پہلے منتظمین اس سے پوچھتے تھے ، کیا اجازت ہے؟ دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق حفیظ نے امریکی ایجنٹوں کو دائود ابراہیم کے موجودہ مقام کے بارے میں معلومات سے بھی انکار کر دیا ۔ ڈی ای اے ایجنٹوں نے حفیظ سے 53 سالہ پاکستانی شہری جابر موتی والا عرف جابر صدیق کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی تھی ۔ حفیظ نے تب بتایا تھا کہ جابر صدیق ایک اسٹاک بروکر تھا جو کراچی میں اسٹاک ایکسچینج میں کام کرتا تھا۔
جابر کو لندن ہائی کورٹ میں داؤد ابراہیم کی ‘ڈی کمپنی’ کے عالمی جرائم پیشہ ور نیٹ ورک کا ٹاپ لیفٹیننٹ قرار دیا گیا تھا ۔ اسے داؤد ابراہیم کا دایاں ہاتھ سمجھا جاتا ہے۔ وہ برطانیہ ، متحدہ عرب امارات اور دنیا بھر میں انڈرورلڈ ڈان کی کی جانے والی سرمایہ کاری کا انتظام کرتا ہے۔ جابر کو برطانوی پولیس نے اگست 2018 میں لندن کے ہلٹن ہوٹل میں گرفتار کیا تھا۔ ایک سال قبل اگست 2017 میں ، برطانیہ کے حکام نے کلاس اے منشیات کی درآمد اور تیاری سے متعلق الزامات کے لئے امریکہ کے سپرد کرنے کی درخواست پر آصف حفیظ کوگرفتار کیا تھا۔