
فتح و نصرت کے وہ روحانی واقعات جو ہم تاریخ کے حوالوں سے کتابوں میں پڑھتے تھے آج آنکھیں ان کا مشاہدہ کررہی ہیں،اور ساتھ ہی ایمان کو تازہ کررہی ہیں،اسی طرح فرعونیت اور نمرودییت کی جس شقاوت اور سفاکیت کا تذکرہ ہمیں تاریخ کے بدنام زمانہ شخصیات کے حوالے سے ملتا ہے، انہیں بھی ہم آج دیکھ رہے ہیں، بلکہ اگر آج وہ حیات ہوتے تو اپنے مظالم اور سفاکیت پر نادم ہونے کے بجائے خود کو معصوم سمجھتے ۔ حق و باطل کے اہم موڑ پر طاقت و قوت ،جاسوسی اور ٹکنالوجی کے تمام معیارات تبدیل ہو گئے ہیں، اپنی طاقت ،جدید ٹکنالوجی، مہلک ہھتیار ،مال و دولت کے انبار کے باوجود اسرائیل بوکھلاہٹ اور بے بسی کا مارا اب اس بات کا منتظر ہے کہ دیگر شیطانی حلیف اس کی مدد کو پہنچے۔ اسٹریٹیجک اور جنگی حکمت عملی میں ناکامی کا منہ بولتا اسرائیل اب وکٹم کارڈ کھیل رہا ہے،یہ ویسا ہی وکٹم کارڈ کا ڈرامہ ہے جیسا جنگ عظیم دوم کے وقت جرمنی میں یہودیوں کی اجتماعی نسل کشی کا کھیلا گیا تھا۔
حماس کی جنگی حکمت عملی
بے سرو سامان فلسطینی حریت پسند مسلمانوں کی تنظیم، سامان حرب و ضرب سے محروم،دنیا کی بڑی طاقتوں کی عتاب کا شکار،حماس نے جنگ کی وہ حکمت عملی اختیار کی ہے کہ مستقبل میں سیاسیات اور جنگی حکمت عملی پر پی ایچ ڈی کے طالب علم اس پر تحقیق کریں گے، جنگ کے شروع دن سے تمام سرحدی علاقوں میں محاذ کو گرم رکھا ہوا ہے،پیراشوٹ کے ذریعے اسرائیل میں داخل ہونے والے مجاہدین کی ہیبت کیا کم تھی کہ
دوسری طرف لبنان کے فوجی اور حزب اللہ کے مجاہدین اسرائیل میں داخل ہوچکے ہیں، جو اسرائیلی دارالحکومت تک رسائی کر چکے ہیں۔تیسری طرف ایران کھڑا ہے،جس کی دنیا کی بہترین مزائیلیں اسرائیل پر برسنے کے لیے ایک حکم کی منتظر ہیں، اگرچہ کے سابقہ تین دنوں میں 750 فلسطینی شہید ہوئے ہیں، اور 2500 سے زیادہ زخمی ہیں، لیکن حماس کی جنگی حکمت عملی کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ اسرائیل کے مرنے والوں کے مقابلے میں یہ تعداد صرف نصف ہے۔اب تک 1100 اسرائیلی مارے جا چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد فوجیوں کی ہے، اور 3000 سے زیادہ زخمی ہیں، اور بڑی تعداد مرگ الموت میں ہے۔قید ہونے والے فوجی اکثر بڑے عہدے دار ہیں،جن سے اسرائیل کو جنگی دماغوں سے محرومی کا بڑا صدمہ ہے،اسرائیل کے حلیف ممالک جن کو اپنی مدد کے لیے آواز دے رہا ہے،وہ اگلا جو قدم اٹھائے سو اٹھائے لیکن فی الوقت انہوں نے اپنی اسرائیل جانے والی تمام ہوائی پروازوں پر روک لگادی ہے، اسرائیلی شہری ملک چھوڑ کر جانا تو چاہتے ہیں لیکن بڑے بڑے ائیر پورٹ صرف ان کی پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں۔اور وہاں پناہ لینے والوں میں، سابقہ حکمران، بیورو کریٹس، بڑے بڑے تاجروں کی تعداد زیادہ ہے۔اسرائیل نے ان تین دنوں میں غزہ جتنی تباہی پھیلائی ہے، ہر طرف آگ، کھنڈرات، اور دھول ہی دھول ہے ،لیکن سوال یہ ہیکہ اتنی بڑی تباہی کے بعد 23 لاکھ سے زائد گنجان آبادی والے غزہ میں مرنے والوں کی تعداد صرف ایک ہزار کے اندر کیوں ہے؟ یہی حکمت عملی ہے جو موجودہ ماہرین سیاست اور جنگ کو حماس کے آگے بونا ثابت کرتی ہے،خیال کیا جاتا ہے کہ جنگ شروع کرنے سے پہلے حماس نے لاکھوں کی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا، غزہ میں بچے ہوئے لوگ وہ ہیں جو یا تو کسی وجہ سے رکے ہوئے ہیں یا اسباب زمانہ تاخیر و تعطیل کا شکار ہیں، باقی حماس کے جنگجو ہیں، جو میدان جنگ کا حصہ ہیں۔جس طرح خود کو خرگوش سمجھنے والے اسرائیل نے کچوے کی چال کو سمجھنے میں غلطی کی ہے اسی طرح لاکھوں کی آبادی یوں یسین کا ورد کرتے ہوئے اس کے جاسوسی کے نظام کو فریب دے جائے گی خیال بھی نہ گزرا،حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کے بیان کے مطابق جنگ اب اسرائیل کے قلب میں داخل ہوچکی ہے،اور عظیم فتح قریب ہے۔(انشاءاللہ )
غزہ کی صورت حال
اس پوری بوکھلاہٹ میں اسرائیل نے اپنے پورے ذخیرۂ بارود کو غزہ پر خرچ کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے،بجلی، پانی ،ادویات تمام ضروریات زندگی اور کمک پر اسرائیل نے اس کے مطابق روک لگائی ہوئی ہے،جب کے حماس کے ترجمان ابو عبیدہ کے بیان کے مطابق وہ لمبی لڑائی کے لیے تیار ہے۔
حماس کی اسٹریٹیجک پالیسی
جنگ شروع ہونے کی بہت سی وجوہات میں ایک اہم وجہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو عرب ممالک کی حمایت بھی لگتی ہے،کچھ ہفتے قبل ہی اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی سطح کی نشستوں کی خبریں گردش کررہی تھیں، جس میں قیاس سے بڑھ کر مصدقہ ذرائع سے یہ اطلاعات تھیں کہ جلد ہی سعودی عرب اسرائیل کو بطور ریاست قبول کرلے گا،جس کے بعد یک بعد دیگرے اور بھی مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے، اب صورت حال یہ ہیکہ غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ اپنی سفارتی بات چیت بند کردی ہے،اور موجودہ جنگ کے مطابق تو اسرائیل کو جنگ کا
ذمہ دار بھی قرار دے دیا ہے۔
عالم اسلام
حماس اور فلسطینی مسلمانوں کے حق اور حمایت میں اب ایسا کوئی مسلم ملک نہیں بچا جس کی سڑکیں مسلمانوں کے سروں کا سمندر کا نظارہ پیش نہ کرتی ہوں، یہاں تک کہ فلسطینی مسلمانوں کی مظلومیت کا احساس، روس اور چائنہ جیسے ممالک کو بھی ہونے لگا ہے۔امریکہ جس کی گود میں اسرائیل جوان ہوا ہے،اس کی بھی سڑکیں اسرائیل کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں۔
لیکن کیا کہیے کہ اسلامی ممالک کی وہ تنظیمیں جو محض قرار داد پاس کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں اس وقت کوئی رمق و حرکت بھی ان کے نمائشی جسم میں باقی نہیں ہے۔ان کی مثال گھر کے اس ضعیف شخص کی مانند ہے،جس کو سب بڑا تو مانتے ہیں، لیکن سنتا کوئی نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی وقار ہوتا ہے،بس یہ کہ جب باہر سے کوئی مہمان آتا ہے تو اس بوڑھے کو مہمان خانے میں استقبال کے لیے بٹھادیا جاتا ہے۔
عالم اقوام
عالم اقوم میں انسانی ہمدردی اور حقوق انسانی کے کیا معیارات ہیں اس کا مشاہدہ ہمیشہ ہی ہوتا رہتا ہے لیکن ،اب وہ چاپلوسی،انسانی جذبات سے محرومی اور حیوانیت کی حمایت میں تبدیل ہوچکا ہے۔اقوام متحدہ کی بے بسی کی بس ایک ہی مثال کافی ہے اقوام متحدہ کا سیکریٹری کہتا ہے کہ وہ اسرائیل کی طرف سے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کے فیصلے پر پریشان ہے،