• 425
    Shares

ممبئی گووا کروز پر این سی بی کی چھاپے ماری پر اٹھے سنگین سوال

آرین خان وارباز مرچنٹ کو گرفتار کرنے والے کے پی گوسوامی ومنیش بھانوشالی کا این سی بی سے کیا تعلق؟نواب ملک

کیا این ڈی پی ایس قانون بی جے پی کے ہاتھ میں ہے؟ این سی بی وبی جے پی پر نواب ملک کی سخت تنقید

ممبئی:نارکوٹکس کنٹرول بیورور(این سی بی) کے ذریعے بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے سمیت دیگر لوگوں کی گرفتاری پر سنگین سوال اٹھاتے ہوئے این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے اسے ایک فرضی ڈرامہ قرار دیا ہے اور کہا ہے یہ مہاراشٹروبالی ووڈکو بدنام کرنے کی ایک منصوبہ بند سازش ہے۔ پارٹی کے ریاستی دفتر میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں نواب ملک نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی اپنے سیاسی مقصد کے لیے این سی بی کا استعمال کررہی ہے اور اس کے ثبوت میں انہوں نے کئی ویڈیوکلپ وفوٹوز پرمبنی شواہد بھی پیش کئے۔

نواب ملک نے کہا کہ این سی بی نے ۳؍اکتوبر کو ممبئی گووا کروزپر چھاپہ مارکر کچھ لوگوں کو گرفتار کیا تھا جن میں بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان وکئی دیگرلوگ شامل تھے۔ لیکن آرین خان کو گرفتارکرتے ہوئے جس شخص کی تصویر وائرل ہوئی ہے اس شخص کا نام کے پی گوسوامی ہے جس کے بارے میں خود این سی بی نے وضاحت کی ہے کہ این سی بی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ ارباز مرچنٹ کو گرفتار کرکے این سی بی کے دفتر میں لے جانے والے شخص کا نام منیش بھانوشالی ہے، اس کے بارے میں بھی یہ معلومات سامنے آئی ہے کہ اس کا بھی این سی بی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ بی جے پی کا نائب صدر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ان دونوں کا تعلق این سی بی سے نہیں ہے تو انہوں نے کس قانون واختیار کے تحت ان ہائی پروفائل لوگوں کو گرفتار کیا ہے؟ اس کا جواب این سی بی کو دینا چاہئے۔

نواب ملک نے کہا کہ ۳؍ اکتوبر کی کارروائی کے بعد این سی بی نے خود کرائم رپورٹرز کو کارروائی کی ویڈیو دی تھی۔ ویڈیو میں واضح طور پر مذکورہ بالا دوانوں افراد گرفتاری کی کارروائی کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔کے پی گوسوامی نے گرفتاری کے بعد آرین خان کے ساتھ سیلفی بھی لی تھی جو خوب وائرل ہوئی۔ اس کے بعد این سی بی نے ٹوویٹ کیا کہ کے پی گوسوامی ان کا کوئی اہلکار نہیں ہے۔کے پی گوسوامی پر پونے میں دھوکہ دہی کا ایک مقدمہ درج ہے۔اپنے فیس بک پیج پر وہ خود کو پرائیویٹ جاسوس بتاتاہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے ہاتھوں میں ریوالور لے کر تصویریں پوسٹ کرتا ہے اور خود کوکوالالمپور ملیشیا کا رہنے والا بتاتا ہے۔نواب ملک نے مطالبہ کیا کہ کے پی گوسوامی کا این سی بی سے تعلق کی نوعیت سامنے آنی چاہئے کہ جب وہ این سی بی کا کوئی اہلکار نہیں ہے جس کی وضاحت خود این سی بی نے کیا ہے تو پھر وہ اس کارروائی میں کیسے شامل ہوا؟ اسی طرح ارباز مرچنٹ کو گرفتار کرنے والا منیش بھانوشالی اپنے فیس بک پر خود کو بی جے پی کا نائب صدر بتاتا ہے۔ اس نے اپنے فیس بک پر وزیراعظم مودی، بی جے پی کے صدرجے پی نڈا، مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ، سابق وزیراعلیٰ دیوندرفڈنویس، مرکزی وزیرریلوے راؤ صصاحب دانوے ومہاراشٹر بی جے پی ایم ایل اے آشیش شیلار وغیرہ کے ساتھ تصویر یں پوسٹ کررکھی ہیں۔ اس شخص کا این سی بی سے کیا تعلق ہے؟ این سی بی کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے۔فی الوقت کے پی گوسوامی ومنیش بھانوشالی کا فیس بک پیج لاک ہے لیکن بھانوشالی کے پورے کوائف ہم نے تلاش کرلی ہیں۔

این سی پی کے قومی ترجمان نے مزید کہا کہ بھانوشالی نے 21و22؍ستمبر کے درمیان گجرات میں وہاں کے کچھ وزراء سے ملاقات کی تھی۔ جبکہ 21ستمبر کو اڈانی پورٹ پر افغانستان سے آیا ہوا ہزاروں کروڑ روپئے کا منشیات برآمد ہوا تھا۔ اس کے بعد 28تاریخ کو بھانوشالی ایک بار پھر گجرات جاکر وہاں کے منترالیہ میں گجرات کے کابینی وزیر کریٹ سنگھ رانا نامی وزیر سے ملا۔اس کے بعد 3؍اکتوبر کو ممبئی میں این سی بی کی کارروائی میں بھانوشالی کیسے شامل ہوا؟اس کا گجرات میں اڈانی پورٹ پر برآمد ہوئے منشیات سے کیا تعلق ہے؟ نیز وہ بی جے پی کا نائب صدر کیسے ہے؟ ان سوالوں کے جواب این سی بی وبی جے پی کو دینا چاہئے۔ اس کے علاوہ سمندری جہاز پرمنشیات کی برآمدگی کا جو دعویٰ کیا جارہا ہے اس کی تصویر بھی این سی بی ممبئی کے ریجنل دفتر میں لی گئی ہے۔این ڈی پی ایس قانون کے مطابق منشیات کی برآمدگی کی جگہ پر ہی اس کا پنچ نامہ ہونا چاہئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سمندری جہاز پر منشیات کی برآمدگی کے بعد ان کی تصویر یا ویڈیو کیوں نہیں بنائی گئیں؟

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔