امریکی فوج کی تین اہلکاروں کی موت کی تصدیق، ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں دو اور کویت میں ایک شخص ہلاک : ایران کا مزید حملوں کا اعلان

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران کے خلاف جاری کارروائی میں تین امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ملک کی مسلح افواج دشمنوں کو ’مایوس‘ کریں گی، اور وہ فی الحال ’دشمنوں کے ٹھکانوں کو کچل رہے ہیں۔‘

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں

تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق، پانچ شدید زخمی

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران کے خلاف جاری کارروائی میں تین امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں سنیچر کو شروع ہونے والی امریکی کارروائی کے بعد پہلی مرتبہ رپورٹ کی گئی ہیں۔

مزید پانچ فوجی ’شدید زخمی‘ ہوئے ہیں۔ سینٹ کام نے کہا ہے کہ تینوں ہلاک شدہ فوجیوں کے نام ان کے اہلِ خانہ کو اطلاع دینے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر جاری کیے جائیں گے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ’امریکی ہیروز کی جانیں جا سکتی ہیں، اور ہمیں جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ جنگ میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔‘

ایران کے جوابی حملے: متحدہ عرب امارات میں تین اور کویت میں ایک ہلاکت کی تصدیق

تصویر،تصویر کا ذریعہShutterstock
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ کل سے اب تک ایرانی حملوں میں تین افراد ہلاک ہو چکے ہین۔

ایک بیان میں وزارت کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک 167 میزائلوں اور 541 ایرانی ڈرونز سے نمٹا ہے۔

اان ڈرونز میں سے 35 ملک کی حدود میں گرے، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 58 معمولی زخمی ہونے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ وہ ہائی الرٹ پر ہے اور کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’کونا‘ نے ملک کی وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی حملوں کے آغاز بعد سے اس کے ایئر ڈیفنس نے 97 بیلسٹک میزائلوں اور 283 ایرانی ڈرونز کا روک کر تباہ کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی نے کویتی وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ خطے میں جاری پیش رفت کے درمیان ایک شخص ہلاک اور 32 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading